کسوٹی جدید کا 14 واں ادبی اجلاس

19 جون بروز اتوار سہ پہر چاربجے سہ ماہی کسوٹی جدید کا 14واں ادبی اجلاس دبئ کے مشہور ریستوراں ” لکھنؤ رسوئ ” میں منعقد ہوا جس کا آغاز نقیب اجلاس موسیٰ ملیح آبادی کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔

“گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینہ را “کے تحت اعجاز شاہین نے چالیس سال پہلے نیا دور کے ایک شمارے میں چھپا صادق حسین کا افسانہ ‘ بابو رفیق’ پڑھا۔

”اردو ناول کا سفر مرحلہ بہ مرحلہ “کے عنوان پر سعدیہ طارق نے جامع اور پرمغز تقریر کی جس پر شرکا نے تفصیلی گفتگو کی۔

امارات کے سینئر شاعر اور ماہر قواعد شاعری ،فرید انور صدیقی نے اپنی غزل تنقید کے لئے پیش کی۔ شرکاء نے اس پر سیر حاصل گفتگو کی ۔عمومی تبصرہ یہ رہا کہ فرید انور صدیقی کی شاعری سطحی اور سپاٹ نہیں ہے بلکہ تہ درتہ غلافوں میں ملفوف ہے۔ چنانچہ اپنی معنویت تک پہنچنے کے لئے قاری کے اندر سخن فہمی کی ایک خاص سطح کا مطالبہ کرتی ہے۔

اس کے بعد اجلاس میں موجود شعراء ظہیر حسنین، صائمہ نقوی،ترنم نور، موسیٰ ملیح آبادی، اعجاز شاہین، فرید انور صدیقی، احتشام عباسی، میگی اسنانی، عاطف رئیس صدیقی، مسعود نقوی، عدنان منور د انی نے اپنا منتخب کلام پیش کیا۔

اس اجلاس میں عباس عثمانی ، ثروت زہرا زیدی، فرزانہ منصور، ترنم احمد، میگی اسنانی ,منور احمد، نیر سروش، سید ارشد، عماد الملک، منہاج خاں، اعجازشاہین، افضل خاں، سعدیہ طارق، موسیٰ ملیح آبادی، ظہیر حسنین، احتشام عباسی، مسعود نقوی، عاطف رئیس، خالد عرفان، عدنان منور، اختر علی نے شرکت کی اور مباحثوں میں حصہ لیا۔

تقریب کے ماحول کو موسی ملیح آبادی نے حسب موقع و محل اپنے شگفتہ اور برجستہ فقروں سے کشت زعفران بنائے رکھا۔

آخر میں میزبان عماد الملک نے دسترخوان اودھ آراستہ کیا۔ بات کہنے کی تو نہیں ، مگر سچ یہی کہ ریستوران ” لکھنؤ رسوئ ” کے پرتکلف طَعَامُ کے سامنے شعرا نے اپنا کلام پھیکا محسوس کیا۔

برسبیل تذکرہ ،لکھنؤ کے نواب واجد علی شاہ کی ایک انگریز نے دعوت کی ۔ دسترخوان پر صرف انگریزی کھانے چنے ۔ جو ظاہر ہے پھیکے بے مزہ تھے۔ ستم مستزاد یہ کہ وہاں تو انگریز عمائدین تھے وہ مسلسل اودھ کے کھانوں کا مذاق بھی اڑا رہے تھے۔ چند روز بعد نواب واجد علی شاہ نے دعوت کی۔ ملازم نے انگریز مہمان کے سامنے بڑا سا کدو لاکر رکھ دیا۔ کدو کے سوا کچھ اور وہاں تھا ہی نہیں۔ انگریز مہمان کو آیا بڑا غصہ۔ صاحب بہادر بولا یہ کیا مذاق ہے۔ بھلا میں یوں کچا کدو کھاؤں گا۔

میزبان نے کہا کدو کو کاٹئیے تو سہی۔مسلسل اصرار پر انگریز نے چھری لی اور کدو کو کاٹا ۔ اس کی حیرت کی حد نہ رہی۔ کدو کے اندر سات قسم کے خوش مزہ اور خوش نما پکوان موجود تھے۔ جو اندر ہی پکائے گئے تھے۔ اور باہر سے کدو یوں نظر آتا تھا جیسے ابھی بیل سے توڑا گیا ہو۔ اس طور کے کئ واقعات مولانا عبد الحلیم شرر نے گزشتہ لکھنؤ میں بیان کئے ہیں۔جن کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔ دراصل ملک گیری و فتوحات کے دور کے بعد سلاطین ونوابین کی توجہ اسباب عیش و عشرت کی طرف ہو گئ۔ ان کے ہاں پورا ایک محکمہ ہوتا تھا جو نت نئے پکوان ایجاد کرکے نواب صاحب کو خوش کرتا اور انعام پاتا۔ اس عہد میں اہل اودھ کی جودت طبع نے کیا کیا کھانے اختراع کئے۔ان کی تفصیل جاننی ہو تو مرزا جعفر حسین کی کتاب” لکھنؤ کا دسترخوان ” پڑھ لیجئے۔

دبئ جو ایک شہر ہے عالم میں انتخاب، اس کی سوسائٹی کاسمو پولی ٹین ،دنیا جہاں کے لوگ یہاں آباد، مشرق اور مغرب کے ہر علاقہ کا ذائقہ یہاں دستیاب۔ مگر نوسٹالجیا آپ کو نوابین اودھ کے دسترخوان کی خوشبو سے گدگداتا ہو تو پھر دبئ میں کہیں اور نہیں صرف ” لکھنؤ رسوئ” واقع نہضہ کا رخ کرنا چاہئے۔ جہاں آپ کو اودھ کے خاص اور مستند پکوان کھلانے کے لئے لکھنو کی روایتی شایستگی و آداب سے آراستہ عملہ آپ کا استقبال کرے گا۔

رپورتاژ:

افضل خاں

مدیر سہ ماہی کسوٹی جدید، پٹنہ،بہار،انڈیا

Leave a Reply

Your email address will not be published.