!!چراغ شرما کی غزلیں

دل کو مِل جائے اگر چاہئے جو بھی، تو بھی
خواہشیں کرنا نہیں چھوڑتا لوبھی، تو بھی

اس کے جانے سے چلی آئی ہے ایسی تنہائی
جو نہیں جائے گی، لوٹ آئے گا وہ بھی، تو بھی

نہیں مانوں گا، کسی طور نہیں مانوں گا
نہیں مانوں گا اُسے بے وفا، ہو بھی، تو بھی

اُنگلیوں پر گِنے جا سکتے ہیں اب اچھے لوگ
اُنگلیوں میں گر انگوٹھے نہ گنو بھی، تو بھی

اہمیت اب تیری کالر کے بٹن جتنی ہے
نہ ہو، تو بھی کوئی دِقّت نہیں، ہو بھی، تو بھی

اِتنا خالی ہوں کہ پہنچانے چلا جاتا ہوں
روک لے کوئی پتہ پوچھنے کو بھی، تو بھی

اب سلگتے ہیں یہی سوچ کے جذبات کہ رات
دل میں اک بات بھی تھی، وقت بھی، وہ بھی، تو بھی

میرا وعدہ ہے یوں ہی جلتا رہیگا یہ چراغ
تم اگر روشنی کی داد نہ دو بھی، تو بھی

—– 2 ——

ہاتھ بھر دوری پہ ہے قسمت کی چابی آپ کی
ایک چھوٹا سا قدم اور کامیابی آپ کی

آپ تو چپ ہو گئے سنتے ہی آنکھوں کے سوال
اب یہ خاموشی ہے یا حاضر جوابی آپ کی

شاعروں کا تو چلو مانا کہ جھوٹے لوگ ہیں
پر وہ جو تعریف کرتے ہیں شرابی آپ کی

آج اداسی میں رنگے دیکھے تو اندازا ہوا
لب نہیں تھے ، مسکراہٹ تھی گلابی آپ کی

آپ سے پہلے بھی اس دل پہ کیا بہتوں نے راج
لکھنؤ میں کون دیکھے گا نوابی آپ کی

دونوں بالغ ہیں، بہت اچھے لگیں گے ایک ساتھ
خانہ دل میرا اور خانہ خرابی آپ کی

———- 3 ———-

دیوں کے ہوتے ہوئے بھی اندھیرا ہوتا ہے
میاں چراغ تلے بھی اندھیرا ہوتا ہے

تمھاری دھوپ ڈھلی تو ہماری آنکھ کھلی
زیادہ روشنی سے بھی اندھیرا ہوتا ہے

ہمیشہ گھر میں ہی رہتے ہو، کچھ خیال کرو
تمھارے گھر کے پرے بھی اندھیرا ہوتا ہے

اگر وہ شکل ہے سورج صفت تو اس سے کہو
کہ آنکھےں موندنے سے بھی اندھیرا ہوتا ہے

شبِ فراق کی تاریکیوں سے واقف ہو ؟
بغیر شمع بجھے بھی اندھیرا ہوتا ہے

  • چراغ