میرا زمانہ میری کہانی (خودنوشت)

میرا زمانہ میری کہانی (خودنوشت)

✍🏻 ماہ پارہ صفدر Mahpara Safdar

✍🏻 تبصرہ — رؤف کلاسرا Rauf Klasra

آج کل 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں پی ٹی وی نیوز کاسٹر ماہ پارہ صفدر (جو کبھی ماہ پارہ زیدی تھیں) کی خودنوشت میرے زیرِ مطالعہ ہے۔ وہ 1990 میں PTV کا جاب چھوڑ کر پاکستان سے لندن بی بی سی چلی گئیں اور اب وہیں مستقل مقیم ہیں۔

ہماری آج کی نوجوان نسل شاید ان سے زیادہ آشنا نہ ہو کہ وہ اس دور میں برسوں تک ہر گھر کا لازمی حصہ سمجھی جاتی تھیں جب صرف پی ٹی وی ہوا کرتا تھا اور وہ بھی چند گھنٹوں کے لیے۔ یہ وہ دَور تھا جب ریڈیو پاکستان بھی اتنا اہم تھا جتنا آج ٹوئٹر، فیس بک یا ٹک ٹاک ہو چکا۔

عمومی طور پر کسی بھی پروفیشن سے جڑی خواتین بہت کم ہی اپنی خودنوشت لکھتی ہیں۔ فوری طور پر ذہن میں کشور ناہید اور ادا جعفری آ رہی ہیں جنہوں نے لکھا اور شاندار لکھا۔ لیکن اگر خواتین لکھیں بھی تو انہیں بہت کچھ اپنے بارے میں بتانے سے زیادہ نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔

جب گگن شاہد اور امر شاہد کے ادارے بک کارنر سے چھپی ماہ پارہ صفدر کی خودنوشت ہاتھوں میں آئی تو 1980 کی دہائی سے PTV سے جڑی پرانی یادیں لوٹ آئیں۔ اگرچہ وہ خود اس بات کو کچھ زیادہ پسند نہیں کرتیں کہ ہر کوئی انہیں مل کر یہی کہتا ہے کہ وہ بچپن سے انہیں دیکھتا آیا ہے اور انہیں لگتا ہے کہ سب چھوٹے ہیں اور وہ بہت بڑی عمر کی ہو گئی ہیں۔ بات بھی ان کی ٹھیک ہے کہ اگر ان سے بڑی عمر کے لوگ بھی یہ کہنا شروع کر دیں تو اعتراض بنتا ہے۔

خیر جب بھی پی ٹی وی کے بارے میں کوئی بھی کتاب چھپی تو لوگوں نے دلچسپی سے پڑھی کیونکہ یہ وہ سب کردار تھے جنہیں آپ نے برسوں اپنے گھروں میں سکرین پر دیکھا تھا اور سب تجسس کا شکار رہتے ہیں کہ اندر خانے کیا چل رہا تھا۔

یقیناً جو لوگ ٹی وی پر مسلسل نمودار ہوتے ہیں انہیں خود احساس نہیں ہوتا کہ وہ جن گھروں میں دیکھے جاتے ہیں آپ ان کے فیملی ممبرز بن جاتے ہیں۔ اس لیے جب بھی عام لوگ کسی اداکار، یا اینکر یا نیوز کاسٹر سے ملتے ہیں تو انہیں لگتا ہے وہ تو برسوں سے انہیں جانتے ہیں لیکن آگے سے اکثر ان مشہور لوگوں کے چہروں پر حیرانی یا اجنبیت دیکھ کر مایوس ہوتے ہیں کہ یہ ہمیں کیوں نہیں جانتے۔

ماہ پارہ صفدر کا یہ کتاب لکھنا یقینا ایک مشکل فیصلہ ہو گا کہ گزرے برسوں کی کہانی لکھی جائے جسے پڑھنے میں آج کی نئی نسل کو دلچسپی نہ ہو (لیکن میری جیسی نسل کو اس میں بہت دلچسپی ہے)۔ اپنی جوانی اور اس سے جڑے کرداروں کو دوبارہ بیٹھ کر یاد کیا جائے۔ پھر یہ فیصلہ کرنا کہ اس کتاب میں اپنی ذاتی اور پروفینشل زندگی کو کتنا قارئین ساتھ شئیر کیا جائے، کیا بتایا جائے اور کیا نہ بتایا جائے۔

ویسے بھی اگر آپ کے اندر سب باتیں شئیر کرنے کا حوصلہ نہیں ہے تو پھر خودنوشت نہیں لکھنی چاہئیے۔ لیکن مجھے کہنے دیں کہ ماہ پارہ صفدر نے مایوس نہیں کیا۔ انہوں نے اپنی ذاتی زندگی کے تقریباً سب پہلوئوں پر لکھا اور خوب لکھا۔ اپنی منگنی، شادی یا اپنے کردار پر اٹھنے والی انگلیاں یا سرگوشیاں جو کسی بھی خاتون کے حوالے سے دفتروں میں معمول سمجھی جاتی ہیں ان سب کے بارے لکھا۔ وہ کہیں نہیں گھبرائیں خصوصاً جو واقعہ انہوں نے سابق ڈی جی آئی بی نور لغاری سے ملاقات کا لکھا کہ کیسے انہیں آخری لمحوں پر لندن بی بی سی جانے سے پہلے ای سی ایل پر ایک معمولی اہلکار کی رپورٹ پر ڈال دیا گیا کہ تمہارا کسی پیپلز پارٹی وزیر سے ملنا جلنا تھا۔ اگرچہ ماہ پارہ صفدر نے ان چند غلط فہمیوں کو بھی دور کرنے کی کوشش کی ہے جو کسی بھی خاتون کو کسی بھی پاکستانی دفتر میں کام کرتے ہوئے سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ چاہتیں تو کچھ واقعات کو اس کتاب کا حصہ نہ بناتیں لیکن انہوں نے ضروری سمجھا اور ان ایشوز پر لکھا۔

جس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہ ماہ پارہ صفدر کی 1970 کے بعد کی پاکستانی سیاست پر گرفت ہے۔ عمومی طور پر نیوز کاسٹرز صرف خبریں پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جو انہیں لکھ کر دے دی جاتی ہیں۔ اس طرح ایکٹرز بھی اکثر کسی دوسرے کے لکھے کے ڈائیلاگز یاد رکھنے کی حد تک کسی ٹاپک میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس سے زیادہ ان میں depth نہیں ہوتی۔

لیکن ماہ پارہ صفدر نے بڑی خوبصورتی سے ان دو اہم دہائیوں کا احاطہ کیا ہے اور کسی سے رعایت نہیں رکھی اور بڑا میچور لکھا۔ انہوں نے ان واقعات کے ساتھ ساتھ اپنی کمنڑی بھی لکھی۔ انہوں نے اگر جنرل ضیاء دور کی منافقتیں اور گمراہ کن باتوں کا پوسٹ مارٹم کیا ہے تو بھٹو ساتھ بھی رعایت نہیں رکھی کہ وہ کیسے عوای لیڈر سے اب فوجی جرنیلوں کے کندھوں کے محتاج ہو گئے تھے اور جرنیلوں نے بہت جلد انہیں اتار پھینکا۔

ماہ پارہ صفدر کو آج تک اس بات کا دُکھ ہے کہ انہیں جنرل ضیاء کے طیارے میں ہلاک ہونے کی خبر پی ٹی وی پر نہ پڑھنے دی حالانکہ وہ وہیں اسٹوڈیو میں موجود تھیں۔ وجہ یہ تھی وہ ”خاتون“ تھیں، اگرچہ بھٹو کی پھانسی کی خبر انہوں نے ہی پڑھی تھی۔ لہٰذا وہ جنرل ضیاء کی موت کی خبر بھی پڑھنا چاہتی تھیں۔

جنرل ضیاء کی پی ٹی وی کی خواتین نیوز کاسٹر سے حیران کن obsession کو بھی بڑی خوبی سے بیان کیا گیا ہے کہ کیسے وہ ان خواتین کے میک اپ سے لے کر بال، کپڑوں اور دوپٹے اور رنگوں تک کا بھی فیصلہ خود کرتے تھے۔ لگتا ہے جنرل ضیاء کی زندگی میں چوبیس گھنٹوں میں سے سب سے اہم صرف وہ ایک گھنٹہ وہ ہوتا تھا جب پی ٹی وی کا خبرنامہ چلتا تھا۔ اس وقت جنرل ضیاء سب کچھ بھول جاتے اور خواتین کے میک اپ، رنگوں، دوپٹوں اور کپڑوں پر توجہ رکھتے تھے۔

ابھی میں نے کتاب مکمل نہیں کی لیکن یہ متاثر کن خودنوشت ہے۔ جسے ہر اس انسان کو پڑھنی چاہئیے جسے سیاست اور میڈیا سے دلچسپی ہے۔ یہ ایک خودنوشت بھی ہے اور پاکستانی تاریخ بھی۔ ماہ پارہ صفدر کے پاکستانی سیاست پر بڑے میچور اور ہارڈ ہٹنگ تبصرے بھی اپنی جگہ اہم ہیں۔

ایک بات تو بڑی اہم لکھی ہے کہ ایران میں خواتین نے شاہ کے اقتدار کے خلاف احتجاجا سکارف یا پردہ کرنا شروع کیا تھا جسے انقلاب کے بعد فوراً قانون کا درجہ دے کر سزائیں رکھ دی گئیں کہ جو سکارف نہیں لے گا سزا کا حقدار ہو گا۔

یہ پڑھ کر میں نے سوچا وقت کیسے بدلتا ہے آج اس ملک میں خواتین اسی سکارف کے خلاف مظاہرے کر رہی ہیں اور اپنے سکارف جلا رہی ہیں۔ ایک وقت تھا کہ 40 سال پہلے سکارف پہننا شاہ ایران کے خلاف احتجاج اور آزادی کا نشان تھا تو آج وہی سکارف اتارنا موجودہ حکمرانوں خلاف ایک نئی احتجاجی تحریک کا سمبل بن چکا اور غلامی سے چھٹکارا۔

ہم انسان بھی ویسے کیا چیز ہیں۔ بہت جلد بور ہو جاتے ہیں یا پھر ایک نسل جسے اپنی آزادی سمجھتی ہے اگلی نسل اس عمل کو غلامی سمجھتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *