!!!متذبذب ناقدین ِ صنف ِ نو

عنوان : متذبذب ناقدین ِ صنف ِ نو 

مضمون نگار : عمار نعیمی 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہت مشہور اور زبان زد عام ضرب المثل ہے کہ ’ضرورت ایجاد کی ماں ہے‘۔ اگر اردو ادب کی بات کریں تو اس چیز کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ یہ ضرب المثل شاید اردو کی ہونے کے باوجود اردو ادب کے لیے بنی ہی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اردو کو کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ اس کو جو کچھ بھی چاہیے؛ وہ ایجاد کرنے کے بجائے دوسری زبانوں سے مستعار لے لیتی ہے لیکن مجال ہے کہ کوئی اس کی اپنی صنف بھی ہو۔ سب کچھ تو غیر زبان ادب سے مستعار لیا ہوا ہے اور اردو دان انھی مستعار شدہ اصناف میں طبع آزمائی کرنے کے بعد اینٹھے اینٹھے چل رہے ہوتے ہیں اور سب سے مزاحیہ بات یہ کہ اسے ان انگریزی اور غیر زبان ادب کو اردو میں لا کر اولیت کا سہرا اپنے سر سجانے کی کوشش میں ایک دوسرے کو ننگا کر رہے ہوتے ہیں۔ نظم ہو یا ناول، ناولٹ ہو یا افسانہ، کچھ بھی تو اردو کا اپنا نہیں ہے۔ اگر کسی کے ذہن میں یہ آتا ہے کہؔغزل‘ اردو کی صنف ہے تو یقیناً یہ اس کی خام خیالی ہے۔ اب اسے تن آسانی کہیے یا کاہلی، بہر کیف جو بھی ہے، اردو دان اردو ادب کی اس ’احساس کمتری‘ کا جواز پیش کرتے ہوئے طرح طرح کی تاویلات پیش کرتے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ ’’ؔاردو میں بے حد لچک ہے، یہ ہر طرح کے الفاظ اور اصناف کو اپنے اندر ضم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے‘‘ ۔ چلیں ایک لمحے کے لیے اس تاویل پر یقین بھی کر لیتے ہیں تو پھر بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایک صنف ہو، دو اصناف ہوں لیکن یہاں تو مستعار شدہ اصناف کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔ یہاں منشی پریم چند کے افسانے ’ادیب کی عزت‘ کا حوالہ دینا بے جا نہ ہو گا کہ جس میں دکھایا جاتا ہے کہ ایک انگریز پوش کیسے افسانے کے مرکزی کردار (جو کہ ایک ادیب اور شاعر ہیں) کی بے حرمتی صرف اس وجہ سے کر دیتا ہے کہ ہمارے یہاں ادب سب انھی گوروں کا چرایا ہوا ہے۔
آج میں انھی مستعار شدہ اصناف میں سے ایک صنف ’مائیکرو فکشن‘ کا تذکرہ کرنے والا ہوں۔ مائیکرو فکشن بھی دیگر اصناف کی طرح انگریزی ادب سے اردو میں آیا ہے۔ افسانہ اور پھر افسانچے کے بعد اس کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس کی تعریف اور ماہیت کیا ہے؟ اس پر تو اس صنف کی ترویج و اشاعت کرنے والے کام کر ہی رہے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا اسے صرف اردو میں مقبول ہی کروانا تھا، اس کے بعد کی جو ذمے داریاں ہیں، ان کا بیڑا کون اٹھائے گا؟ مائیکرو فکشن پر ایک خاص نمبر ’ندائے گل‘ میگزین نے شائع تو کر دیا لیکن اس میں ناقدین نے جس انداز میں قاری کی تربیت کی ہے؛ اس پر صرف مسکرایا ہی جا سکتا ہے۔ (حوالہ: ندائے گل، نومبر 2016، جلد نمبر 04، شمارہ نمبر 04، آگے اسی خاص نمبر کے حوالوں میں صرف صفحہ نمبر دیا گیا ہے)
درج بالا رسالے میں فارس مغل نے مائیکرو فکشن کی جو تعریف کی ہے، وہ تعریف کم اور ٹیلی ویژن میں چلنے والا اشتہار زیادہ لگ رہا ہے۔ تعریف ملاحظہ کیجیے:
’’مائیکرو فکشن کو ہلکی پھلکی بھوک میں ہلکا پھلکا TUC سمجھ لیجیے‘‘
ایک اور تعریف پڑھیے:
” مائکرو فکشن کی مثال ’چھوٹے پیکٹ میں بڑا مزا‘ جیسی ہے۔‘‘
اب سوال یہ ہے کہ قاری کی تربیت اگر اس طرح سے کی جائے گی تو قاری پھر اس صنف کا نام سن کر اسے ایک لطیفہ ہی سمجھے گا۔ سب سے بڑا ظلم جو اس صنف کے ساتھ لوگ کر رہے ہیں وہ قارئین نہیں خود اس صنف کے مصنفین ہیں۔ اکثریت کو معلوم ہی نہیں ہے کہ فلیش فکشن اور مائکرو فکشن میں فرق کیا ہے؟ اس صنف کو رواج دینے والوں نے جو اس کی تعریف کی ہے شاید یہ اسی کا اثر ہے یا شاید اِس صنف میں طبع آزمائی کرنے والے اس سے بالکل ناواقف ہیں۔ نسیم سید نے مائیکرو فکشن کی تعریف جس طرح کی ہے، ملاحظہ کیجیے:
’’مائکروفکشن لکھنے کی شرائط کڑی ہیں۔ تین سو الفاظ کے افسانے میں ایسے گنے چنے اور منتخب الفاظ ہوں جو معنی کی تمام تہہ داری کو سمیٹ لیں۔‘‘ (ص 4)
“ڈاکٹر امواج الساحل مائکرو فکشن کا سائز متعین کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ:
’’یہ چند سطروں یا ایک سطر پر مشتمل ہوتا ہے‘‘ (ص 6)
شفقت محمود مائیکرو فکشن کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’300 سے 600 الفاظ پر مشتمل ایک ایسا سادہ بیانیہ یا علامتی فکشن جہاں آغاز سے ہی جامع الفاظ قاری کو اپنی گرفت میں لے لیں‘‘ (ص 32)
سید تحسین گیلانی (بانی انہماک انٹرنیشنل فورم، مائیکرو فکشن کو ترویج دینے میں سرفہرست) کے اپنے الفاظ ملاحظہ ہوں:
’’موضوع کے اعتبار سے لفظوں کی تعداد 600 تک جا سکتی ہے‘‘ (ص 1)
سید تحسین گیلانی کینیڈا میں مقیم معروف افسانہ نگار و شاعرہ طلعت زہرا سے انٹرویو کرتے ہیں جس میں وہ مائیکرو فکشن کے الفاظ کا تعین کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ:
’’اگر فلیش فکشن کم سے کم پانسو الفاظ پہ مبنی ہے اور ٹوئٹر لٹ اندازاً 25 الفاظ پر تو مائیکرو فکشن ان کے درمیان 25-500 الفاظ کے درمیان ہی ہو گا‘‘ (ص 35)
ان تمام تعریفوں پر غور کیا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ان بیانات میں تضاد موجود ہے۔ ایک ناقد کے نزدیک زیادہ سے زیادہ 500 الفاظ جب کہ باقیوں کے نزدیک 600 الفاظ لیکن کم سے کم الفاظ کا تعین کسی نے بھی نہیں کیا۔ اگر طلعت زہرا صاحبہ کی بات مان لی جائے جو کہ مناسب بھی معلوم ہوتی ہے تو ڈاکٹر امواج الساحل کی بات رد کرنا پڑے گی۔ اگر ایک عام قاری اس صنف کو سمجھنا چاہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس ناقد کی پیروی کرے تاکہ مائیکرو فکشن کی صنف صحیح معنوں میں پھل پھول سکے۔
اب آتے ہیں اس کے نام کی طرف؛ تو اس کے نام کو لے کر بھی بے شمار تضادات موجود ہیں۔ سب سے پہلے ڈاکٹر امواج الساحل نے اس کے جو نام گنوائے ہیں وہ ملاحظہ کرتے ہیں:
’’اس کے بہت سے نام ہیں۔ جاپانیوں نے اسے ہتھیلی سائز کی کہانی کہا، چائنہ میں اسے سگریٹ نوشی ٹائم کہانی کہا گیا، امریکیوں نے اسے فلیش افسانے کا نام دیا۔ اور بھی نام ہیں، جیسے چار منٹ کی کہانی، تیز رو کہانی، بیس منٹ، ٹیلی گراف افسانہ، بجلی کی لپک، پورٹریٹ، چنگاریاں، افسانوی منظر، مختصر شعری افسانہ وغیرہ‘‘ ۔ (ص 5)
طلعت زہرا نے اسے ’فسانہ خورد‘ اور شفقت محمود نے اسے ’مائیکروف‘ کا نام دیا ہے۔ لہذا اکثریت نے جب ’مائیکروف‘ کی حمایت کی تو اس کا حتمی نام ’مائیکروف‘ رکھ دیا گیا۔ خود تحسین گیلانی کیا فرماتے ہیں، ملاحظہ ہو:
’’مائیکرو فکشن کا نام اردو میں کیا ہو؟ یہ سوال اتنا اہم نہیں‘‘
’’گلاس /موبائل /انٹرنیٹ /ڈش /وائی فائی /کمپیوٹر ایسے سینکڑوں الفاظ اردو میں ضم ہو چکے ہیں جو وقت کی ضرورت ہیں اور جن کا متبادل سوچے بنا ہم معنی سمجھ لیتے ہیں‘‘ ۔ (ص 31)
مائیکرو فکشن کی ترویج و اشاعت کرنے والے کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کا اردو میں نام رکھنے کے حق میں نہیں ہیں تو سوال یہ ہے کہ پھر مائیکرو فکشن ’مائیکروف‘ کس اکثریت کے ووٹوں سے طے پا گیا؟ جب رائج کرنے والا ہی متفق نہیں۔ مزید ہم اس نام ’مائیکروف‘ کا جائزہ لیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ آخر ’مائیکرو فکشن‘ کو ’مائیکروف‘ کہنے کی وجہ کیا ہے؟ جیسے نثری نظم کو اگر ’نثم‘ کا نام دیا گیا ہے تو اس کی وجہ نثر کا نظم میں ضم ہونا ہے۔ اگر ہم ’مائیکرو فکشن‘ کو ’مائیکروف‘ بھی مان لیں تو کل کلاں جب کسی گورے کے سامنے اس کا ذکر کریں گے تو وہ منھ ہی نہ تکتا رہ جائے اور آپ کو یہ سمجھانے لگے کہ
’جناب لفظ تو پورا ادا کریں‘ اور آپ دریافت کریں کہ گورا صاحب کیا مطلب اور وہ فرمائے:
’مائیکروف کے آگے ‘ون’ بھی لگتا ہے اور یوں ’مائیکروفون‘ بنتا ہے ؛ یا پھر ’مائیکرو فنانس‘
راقم نے یہ تو تسلیم کر لیا ہے کہ یہ صنف اب اردو میں رائج ہو چکی ہے لیکن ابھی اس پر بہت کام ہونا باقی ہے۔ اس صنف کے ناقدین ابھی تذبذب کا شکار ہیں کہ اس کے حتمی الفاظ کا تعین کیسے کریں؟ اس کی وجہ یہ نہیں کہ یہ ناقدین نکھٹو ہیں ؛ بس وجہ یہ ہے کہ یہ مستعار شدہ صنف ہے۔ اس کے نام کو لے کر راقم مطمئن نہیں ہے۔ اگر افسانے کو مختصر کر کے لکھا جائے تو ’افسانچہ‘ کہلاتا ہے تو پھر مائیکرو فکشن تو ’افسانچے‘ کو بھی مختصر کر کے لکھنا قرار پایا ہے تو کیوں نہ اسے ’افسانچی‘ لکھا اور پکارا جائے۔ یقیناً آغاز میں غیر مانوس لگے گا جیسے کرونا وائرس پر ادب خلق کرنا ادبا کو عجیب لگا تھا لیکن بعد میں تواتر کے ساتھ اس پر غزلیں، نظمیں اور افسانے لکھے گئے ؛ اسی طرح ’افسانچی‘ جو کہ اسم صغیر ہے، بھی مقبول ہو جائے گا۔ اگر دیگچی، چمچی کہنے میں کوئی قباحت نہیں تو ’افسانچی‘ کہنے میں بھی کوئی شرم محسوس نہیں ہونی چاہیے لیکن اس پر بھی اعتراض قائم ہو سکتا ہے۔ آج اگر سفر نامے کے بعد سفرانچہ وجود میں آ چکا ہے تو کل کلاں سفرانچی بھی وجود میں نہ آ جائے اور یوں نامانوس الفاظ کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو جائے۔ اس لیے راقم الحروف کے نزدیک ’مائیکرو فکشن‘ ہی کہا جانا بہتر ہے۔ اگر ’ہائیکو‘ کو جوں کا توں قبول کیا جا سکتا ہے تو پھر ’مائیکرو فکشن‘ کو کیوں نہیں۔ لہذا مائیکروف کے بجائے مائیکرو فکشن ہی لکھا اور پڑھا جانا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.