!!!فنا رہگزر کے مسافر پرندے

فنا رہگزر کے مسافر پرندے

نہیں جانتے ہیں

کہ کیا بھید ہے کیسا اسرار ہے

کون سا جال ہے

کیسے پھندوں بُنی چال ہے

کُچھ نہیں جانتے

فَلَک اوج کے خواب آنکھوں بھرے سب

غُبارے کے انجام سے بے خبر،

بس ، اُڑے جا رہے ہیں

فنِ سامری کی مہارت پہ ہے

جیسی چاہے

وہ عفریت کو شکل دے

چاہے کالے دِنوں میں بھی شفّاف اُجلے دِنوں کے

بَتاشے لُٹا کر خبر میں چلائے

سرابوں کو دریا دِکھا کر

کھلی آنکھ میں دھول جھونکے

ٹھگی خوش گمانی کو ساون کا اندھا بنائے

مَیں اِک ڈھہ رہے گھر کی

بے چین مٹی کی خوشبو کا قیدی

کہ جِس سے مرے خواب سارے بندھے ہیں

ہری کھیتیاں لہلہاتی رہیں

یہاں تُخم پاشی میں مصروف ہوں

مری سجدہ گاہِ محبّت

مری پاک مٹی

مَیں جِس میں گڑا ہوں ، کھڑا ہوں

کہ جس سے

جبینِ عقیدت نے بوسوں کا رشتہ

بڑی ہی سہولت سے جوڑے رکھا ہے

بہت دُکھ میں ہوں

نہیں جانتے سب

وہ جو لَوٹ کر پھر نہ آئے

وہ سب,

اپنے ہونے کا کیا ہے سبب، جانتے تھے

وہ سب،

عشق آنگن کی بارش نہائے پرندے

وہ سب آگ دریا سے گزرے

کہ جب رن پڑا

آزمائش بھرے اندھے رستوں گزرتے

جنہیں سُرخروئ ملی

وہ جو،

اپنے آئندگاں کے لیے

سرِ دار جلتے چراغوں میں روشن ہوئے

اُن کی قبروں میں کہرام ہے

سسکیوں کی صدا دم بدم اُٹھ رہی ہے

مری نیند کی آنکھ میں

تیز نوکیلی شیشوں کی چھریاں کُھبی ہیں

بپا جشن میں ناچتے

قہقہہ بار سب کالی روحوں کے ياچک

وہ سب کذبِ شیطاں کے اندھے پُجاری

ہوس کار تُجّار ہاتھوں

لباسِ بدن رہن جو کر چُکے

جنہیں بے ضمیری نے بیدار و آزاد چھوڑا نہیں

مری اِس اذیّت کو وہ

اپنی روحوں میں محسوس کیسے کریں گے

زمیں تا زماں سارے سیّار ثابت

کسی کی اسیری میں جکڑے ہوئے ہیں

مری روح میرا بدن

ہے شِگافوں کی آماج گہ

شگوفوں کو کھلنے

ہرے کونپلوں کو پنپنے سے پہلے

ستم پیشگی

کالی روحوں کی خوراک کرنے کی آمادگی پر

قسم لے چُکی ہے

ہلاہل کا امرت نسوں میں سرایت کیا جا چُکا ہے

ستاروں کو محرومِ بینائ گویائ کرنے کی سازش

ثمربار ہے

حِسیں ساری مفلوج کر دی گئی ہیں

ابھی تو شررزاد امرت مہوتسو میں مصروف ہیں

ابھی کاغذی پیرہن التجاؤں

کے سُننے کی شُبھ شُبھ مہورت نہیں ہے

ابھی دیوتا سب

نئے ورلڈ آرڈر کی خاکہ نگاری کے

کارِ عبث سے لگے ہیں

اُدھر آسماں سارا

چیلوں گدھوں سے بھرا جا رہا ہے

اِدھر محبسِ جاں میں آنکھیں

بُجھی جا رہی ہیں

بہت دِن کٹے ہیں سرابوں کے پھیرے لگاتے

کوئ اور دن بھی ۔۔۔ !!

خموشی کے لب پر تبسّم سجائے

بڑے صبر سے نیل

اپنی کلائ گھڑی جھانکتا

وقت کا منتظر ہے !!

© انورشمیم

Leave a Reply

Your email address will not be published.