!!شگفتہ شاہ صاحبہ کی ترجمہ کردہ کتاب “ینّی

شگفتہ شاہ صاحبہ کی ترجمہ کردہ کتاب “ینّی “

” اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا “

میرا میسنجر عموما یونہی نظر انداز رہتا ہے جیسے حکومت عوامی مسائل کو کرتی ہے۔ ایک بھلے سے دن کا ذکر ہے کہ میں فون میں موجود مختلف ایپس کے دورے کو نکلی کیونکہ غیر استعمال شدہ ایپس میموری پر ناقابل برداشت بوجھ ڈال رہی تھیں اور ان کے ڈیلیٹ کرنے کی تجاویز زیرِ غور تھیں۔ ایسے میں میسج ریکوئسٹس میں ایک پیام نے سر بلند کیا اور گویا ہوا ” کیا آپ اپنا ایڈریس انباکس کرنا پسند کریں گی تاکہ آپ کو کتاب بھیجی جا سکے۔”

واہ اس اختصار کے صدقے ! ورنہ تو اکثر لوگ حرف مدعا زبان تک لاتے لاتے پورا شجرہ نسب اگلوا لیتے ہیں اور ان کی اسی عادت کے باعث میں لوگوں کے قریب ہوتی ہوں نہ ان کی قربت پسند کرتی ہوں۔ پس ثابت ہوا کہ “شگفتہ شاہ ” شگفتہ بھی ہیں اور” شائستہ ” بھی۔ زہے نصیب کہ مجھ ناچیز کو انہوں نے اس قابل جانا۔ چائیں چائیں پتا روانہ کیا اور چند ایام بعد ہی “ینی ” میرے ہاتھوں میں تھی۔ خوابناک ٹائٹل اور روم کی افسانوی سرزمین سے ابھرتی رومانوی داستان نے میرے شوق ِ قرات کو مہمیز کیا ، برسوں بعد کسی بھی ترجمہ شدہ کتاب کو میں نے ایسے اشتیاق و انہماک سے پڑھا کہ تین نشستوں میں ہی کتاب ختم کر ڈالی اور ہنوز کہانی، کہانی کار اور ترجمہ نگار کے حصار میں ہوں۔

میں کوئی تنقید نگار ہوں اور نہ ہی یہ تنقیدی مضمون کہ میں کہانی کی ہئیت ، بنت ، اجزائے ترکیبی، موضوعات کے تنوع یا ترجمہ کے تکنیکی امور پر خامہ فرسائی کروں۔ میں تو بس ادنی سی قاری ہوں پڑھتے سمے جن احساسات نے میری روح کو چھوا انہیں تاثرات کو رقم کرنے کی جسارت کی ہے۔ سب سے پہلے تو یہ ترجمے کا اعجاز ہے کہ ایک پل کو بھی ارتکاز توجہ متاثر نہیں ہوا۔

شگفتہ شاہ ان معدودے چند اردو ترجمہ نگاروں میں شامل ہیں جو بلا واسطہ اور براہ راست اصل زبان سے ترجمہ کرتے ہیں ورنہ تو ہماری سرکاری زبان کی طرح زیادہ تر تراجم بھی انگریزی کے رہینِ منت ہیں۔ خیر ترجمہ انتہائی شاندار ، سلیس اور رواں ہے۔ زبان و بیان بہت ادبی ہے اور نہایت معیاری محاورے و ترکیبات استعمال ہوئے ہیں۔ قرات میں کہیں زبان اٹکتی ہے نہ خیال نہ ربط کا تانا بانا ٹوٹتا ہے۔ تار سے تار جڑا ہے اور لفظ سے لفظ۔ کہیں گمان نہیں گزرتا کہ یہ ترجمہ ہے بلکہ یقین غالب ہونے لگتا ہے کہ یہ طبع زاد ناول ہے۔

جہاں تک کہانی کا تعلق ہے تو وہ زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہے۔ وقت کی سوئیوں کا صدیوں کا سفر اور جغرافیے میں کھچے خطوط پر مشرق و مغرب کا بُعد کہانی کو آج کے پس منظر سے جدا اور اجنبی نہیں کر سکا کیونکہ محبت ہمیشہ سے ہی سرشت ِ آدم رہی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ ہمارے آس پاس کی ، اسی سماج کی ، اسی دور کی کہانی ہے۔ وہی الجھنیں ، وہی کشمکش ، وہی خواب وہی حسرتیں، وہی قدریں ، وہی قاعدے ،وہی سماجی رویے وہی جغرافیائی حالات۔۔۔

مرکزی کردار “ینی ” میں مجھے مختلف افسانوی کرداروں کی جھلک نظر آئی۔ moral dilemma میں مجھے جارج ایلیٹ کی “میگی” کا عکس لگی ، زندگی کی المناکیوں اور نا انصافیوں کو سہتے ہوئے تھامس ہارڈی کی “ٹیس ” کی شبیہہ نظر آئی۔ مگر ٹیس کی خانماں بربادی میں تقدیر کے عوامل کار فرما تھے۔ اور ینی کا انجام اس کے خود کے فیصلوں کا ثمر۔۔۔۔ وہ جو کہتی تھی ” زندگی میں جو انتہائی ناگوار دشواریاں آپ کو پیش آتی ہیں وہ در اصل خود آپ کی اپنی پیدا کردہ ہوتی ہیں۔”

سو اس نے اول تا آخر اپنے قول کو خوب نبھایا اور ہینرک ابسن کی “نورا” کی طرح جو ٹھان لیا اس پر ڈٹ گئی۔

352صفحات پر مشتمل انتہائی مناسب ضخامت کی کتاب صفحہ اول سے آپ کو گرفت میں لیتی ہے اور صفحہ آخر تک وہی دلچسپی آپ کے ہمراہ رہتی ہے اور آپ بھی کرداروں کے خوابوں کی بھول بھلیوں میں مسلسل محوِ گردش رہتے ہیں۔ منظر کشی ایسی کہ مانو سامنے کینوس پر تصویر پینٹ کر دی گئی ہے، کرشن چندر کی مہارت یاد آ جاتی ہے۔

کہانی گنجلک ہے نہ دقیق ، فلسفے بگھارتی ہے نہ بھاشن جھاڑتی ہے۔ یہ محبت میں بقا سے فنا کی کہانی ہے۔ روح کو سرور اور دل کو درد سے معمور کرتی ہے۔

“گنار گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ اس نے جیب سے گتے کی ایک چھوٹی سی ڈبیہ نکال کر کھولی۔ اس میں ینی کی کرسٹل کی گلابی مالا کا ایک موتی پڑا تھا ۔ جس وقت وہ اس کا سامان اکٹھا کر رہا تھا تو اس کے پلنگ کے پاس والی چھوٹی میز کی دراز میں پڑی اس کی مالا دیکھی ؛ جس کی ڈوری ٹوٹ چکی تھی۔ اس نے ایک موتی اٹھا کر اپنے پاس رکھ لیا ۔ اب اس نے قبر کی تھوڑی سی بھوری مٹی اٹھا کر ڈبیہ میں ڈالی ، موتی مٹی سے ڈھک گیا مگر اس کا گلابی رنگ واضح طور پر دکھائی دے رہا تھا اور سورج کی شعاعیں کرسٹل سے منعکس ہو رہی تھیں۔

Romania Noor

Leave a Reply

Your email address will not be published.