!!شکیل استھانوی کی کتاب “نقوش حیات” پر ایک نظر

    شکیل استھانوی کی کتاب “نقوش حیات” پر ایک نظر

          جناب شکیل استھانوی کی ایک  بیش بہا کتاب “نقوش حیات” اس ناچیز کے زیر مطالعہ آئی ۔یوں تو مذکورہ کتاب کم و بیش دو ماہ قبل ہم دست ہوئی لیکن مرض چشم کے باعث اس وقت یہ ناچیز “نقوش حیات” کا مطالعہ کرنے سے قاصر رہا کیونکہ ڈاکٹر نے مطالعہ کرنے سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ جب تک کسی کتاب کا بغور مطالعہ نہیں کیا  جاتا ہے۔ تب تک اس پر کچھ خامہ فرسائی نہیں کی جا سکتی ہے ۔چنانچہ علاج و معالجہ کے بعد احقر نے مذکورہ کتاب کا مطالعہ کیا اور جو نکتے فہم میں آئے ان پر اپنی حقیر آرا کے اظہار کے لئے اب مسند نشیں ہوا ہے۔بوقت مطالعہ جیسے ہی  نگاہ فہرست مشمولات پر جاکر مرکوز ہوئی اس ناچیز کے پسینے چھوٹنے لگے۔اس پسینہ چھوٹنے کا سبب یہ ہے کہ ان مشمولات میں ایسی ایسی جید و متبرک شخصیات کی سوانح اور کارہائے نمایاں کے علاوہ گراں قدر افکار و خیالات کا ذکر خیر ہے جن پر اظہار خیال کرنے میں بلند سے بلند قد اہل قلم کے قلم لرزاں ہو جاتے ہیں۔اگر ناچیز مذکورہ کتاب کو ایک گنج بےبہا کہے تو شاید بیجا نہ ہوگا۔
        مذکورہ کتاب “نقوش حیات” کے خالق جناب شکیل استھانوی صاحب بہار تو محض ایک مولوی صاحب ہی نظر آتے ہیں ۔ آب کے طرز معاشرت اور رکھ رکھائو سے زرہ برابر بھی ظاہرداری و خود نمائی کا اظہار نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ آپ بالکل ہی سادگی پسند اور اسلامی روایات کے امین نظر آتے ہیں۔موصوف کی زیارت کے بعد آپ کی ادبی شخصیت کا اندازہ لگانا بڑا ہی مشکل امر ہے۔شاید تخلیق و تصنیف قصبہ استھانواں کی خاک میں ہی شامل ہے۔شکیل استھانوی صاحب اس مردم خیز سر زمین  کی پیداوار ہیں جہاں ایک دو نہیں بلکہ کئی قابل قدر اہل قلم و صاحبان علم و دانش پیدا ہوئے۔ان کی نسبت علوم دینیہ سے بھی رہی ،سیاست سے بھی رہی اور جدید دنیاوی علوم سے بھی۔ان میں اولین اسم گرامی سید عبدالغنی استھانوی کا ہے پھرجناب شرر استھانوی،مولانا سید فصیح احمد،عالم و عامل کامل مولانا رونق استھانوی ،مولانا سید محمد رضاکریم صاحب ۔ مولانا محمد صاحب،جناب شمس الھدیٰ صاحب(مدیر و مالک روزنامہ ہمارا نعرہ)ارشد استھانوی صاحب   جناب سیدحامد صاحب  اور جناب اقبال حیدر ندوی صاحب کے علاوہ متعدد ایسے ہیں جن کا علم اس ناچیز کو بھی نہیں ہے۔شاید وہ بیجا تشہیر سے گریز فرماتے ہوں ۔اسی لئے گمنامی کے قعر تاریک میں مدفون رہے۔ارض استھانواں کی ہی گراں قدر پیداوار میں ایک اسم گرامی جناب شکیل استھانوی کا نام نامی بھی ہے جو ہر زاویہ سے اسم با مسمی نظر آتے ہیں۔اپ کو بھی نام و نمود،شہرت و عزت کی حرص کبھی نہیں رہی ۔انتہائی خاموشی کے ساتھ اپنا دینی و علمی و ادبی فریضہ بے لوث ہو کر انجام دیتے رہے ۔اس طرح گنج اردو میں اضافت کا سبب بھی ہوتے رہے۔حق تو یہ ہے کہ ایسے بے ریا اور بے لوث خادم زبانو ادب شاذ و نادر ہی نظر آتے ہیں۔چنانچہ اب یہ ناگزیر ہے کہ موصوف کو ان کا سہی مقام و مرتبہ عطا کیا جائے۔ ورنہ یہ گراں قدر شخصیت بھی انصاف کی منتظر ہی اس دار فانی سے کہیں نہ کوچ کر جائے۔  
          کتاب “نقوش حیات” در اصل شکیل استھانوی کی نوک قلم سے برآمد کل 29 مضامین کا مجموعہ ہے ۔مذکورہ کتاب سے قبل آپ کی کل چار کتابیں “سوانح حیات شیخ طریقت حضرت مولانا عبد الحکیم خان صاحب””سوانح حیات شیخ طریقت حضرت مولانا مرشدنا اسرارالحق خان صاحب””نورانی دعائیں” اور ” نورانی نمازیں” منصہء شہود پر آکر داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں۔اپ خود اپنی کتاب نقوش حیات” کے متعلق یوں رقمطراز ہیں۔
            “میں قطعی یہ نہیں کہتا کہ مذکورہ حضرات کے لئے یہ چند اوراق کافی ہیں بلکہ میری رائے ہے کہ ہر شخصیت اپنی ذات میں ایک انجمن کی حیثیت رکھتی ہے۔ان میں سے کچھ شخصیتیں ایسی بھی ہیں جن کی حیات میں ہی میں نے ان کی خدمات اور کارناموں کو اخبارات کے توسط سے اردو ابادی کو متعارف کرایا ہے۔یہ بات بھی حقیقت ہے کہ کچھ شخصیتیں ایسی بھی تھیں جن کی زندگی گوشہء گمنامی میں تھی اور ان کی خدمات کا دائرہ وسیح تھا لیکن ان کی طرف لوگوں کی نظریں نہ گئیں۔میں نے محسوس کیا کہ اگر ان پر کچھ نہ لکھا گیا ،ان کی خدمات کا اعتراف نہ کیا گیا ساتھ ہی ان کی خوبیوں کو منظر عام پر نہ لایا گیا تو بےایمانی ہوگی۔ لہٰذا ان کے انتقال کے بعد میں نے حتیٰ الامکان ان کی خدمات اور ان کے کارنامے کو اپنی جانکاری کے مطابق یا لوگوں سے پوچھ کر صفحہء قرطاس پر سمیٹنے کی کوشش کی اور پھر انہیں عام لوگوں کے سامنے پیش کیا تا کہ آنے والی نسلیں ان شخصیات سے درس عبرت حاصل کر سکیں کہ یہ شخصیتیں کتنی عظیم تھیں۔انہوں نے نہ صرف ملک و ملت کی بےلوث خدمت کی بلکہ تعلیم و تعلم کے فروغ میں نمایاں کردار بھی ادا کیا،جہد آزادی کی خاطر اپنا گھر بار لٹایا ،بھٹکتی ہوئی انسانیت کوصحیع راہ دکھائی اور اعلیٰ اقدار و روایات کا نہ صرف تحفظ کیا بلکہ مثبت افکار و نظریات کے ساتھ رہنمائی بھی کی اور سماج و معاشرے کی اصلاح کے لئے اپنی اخلاقی جرآت کا مظاہرہ بھی کیا”۔
         درج بالا حوالہ سے یہ امر پایہء ثبوت کو پہنچ جاتا ہے کہ اپنی خامہ فرسائی کے لئے آپ نے جن شخصیات کا انتخاب فرمایا ہے وہ تمام کے تمام اپنے اپنے میدان عمل میں منفرد و یکتائے روزگار رہے۔شکیل استھانوی نے اپنے درج بالا سطور میں کتاب کے مشمولات کی تخلیق کے اسباب و علم کی توجیہ و توضیح بھی فرمائی ہے ۔جن متبرک شخصیات کی حیات بابرکت اور ان تمام کی خدمات و کارناموں کو جس طرح بیان فرمایا ہے اس میں احترام کا جذبہ بھی مضمر نظر آتا ہے اور حقائق پسندی بھی نظر آتی ہے۔بلا شبہ ایسی جید اور بلند قد شخصیات کو اپنے رشحات قلم کے ذریعہ قارئین کرام سے نہ صرف متعارف کرانا بلکہ ان کے اوصاف حمیدہ،جذبہء دینیہ اور ذوق تخلیق و تدبر کو روشن کرنا اپنی ذات میں ایک بڑا کارنامہ ہے جس سے انکار کرنا موصوف پر ظلم کے مصداق ہوگا۔مذکورہ کتاب کے مطالعے سے قارئین کرام کو یہ محسوس ضرور ہوگا کہ اگر یہ کتاب منظر عام پر نہیں آتی تو ہم زندگی کے بہت سارے حقائق سے محروم رہ جاتے ۔ان متذکرہ بالا شخصیات کے منصب و مرتبہ اور دینی حیثیت سے بھی نا آشنا رہ جاتے ۔علاوہ ازیں کتنی ہی قابل قدر شخصیات کے باطنی جواہر سے غافل رہتے ہوئے ان کے فیضان سے محروم رہ جاتے۔مثال کے طور پر مذکورہ کتاب کے مشمولات میں شامل اولین مضمون ہی “مولانا سید ولی رحمانی”ہے۔ولی رحمانی کی شخصیت کیا رہی ہے اس سے ہر کس و ناکس واقف ہے۔جہاں تک آپ کی سیاسی و سماجی حیثیت کا سوال ہے تو اس امر سے تمام اہل علم و بصیرت اور با شعور و فہم و فراست حضرات کسی حد تک واقف ہیں ۔لیکن دینی معاملات میں آپ کی حیثیت کیا رہی ہے ۔اس حقیقت سے ہر کس و ناکس آگاہ نہیں ہے۔پھر اسلامی نقطہء نظر سے آپ کی کیا حیثیت اور مراتب رہے ہیں اس امر کا اندازہ زیر تبصرہ کتاب میں شامل ارض ہند کے جید عالم دین مولانا قاری صدیقی صاحب کے درج ذیل قول سے بخوبی ہو جاتا ہے۔اپ نے ان بہاری معتقدمین جو آپ سے بیعت کے مقصد سے آپ کی خدمت عالیہ میں حاضری دینے پہنچے تھے انہیں کچھ اس طرح  تلقین فرمائی۔
        “بہار کی سرزمین چھوڑ کر تم لوگ یہاں کیوں ائے؟وہیں جا کر بعیت ہو جائو،ہم نے کہا کہ بہار کے مشہور بزرگ حضرت امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی صاحب اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ہیں اس لئے ہم لوگوں کی یہاں حاضری ہوئی ہے۔قاری صاحب نے فرمایا تم لوگ حضرت مولانا محمد علی رحمانی کو سیاسی مولانا سمجھتے ہو،وہ دنیا کے چالیس ابدالوں میں سے ایک ہیں۔جائو ان سے جاکر بعیت ہو جائو”۔
         درج بالا سطور سے حضرت ولی رحمانی کی وہ حقیقت اجاگر ہوتی ہے جس کا کسی کو ادراک نہیں۔ابدال کی شناخت ہر کسی کے بس کا روگ نہیں ہے۔اس کے لئے وہی نظر چاہئے جو مولانا قاری صدیقی صاحب کے پاس تھی۔یعنی نگاہ کشف ۔اس سے زیادہ کچھ کہنے سے یہ ناچیز قاصر ہے۔۔کیونکہ ایسی شخصیت پر خامہ فرسائی وہی کر سکتا ہے جس کی نگاہ باطن میں جھانکنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ہاں یہاں مولانا ولی رحمانی کی گراں قدر کتب کی اسماء شماری ناگزیر تصور کرتا ہوں جن کا ذکر خیر جناب شکیل استھانوی صاحب نے اپنی اس کتاب “نقوش حیات” میں فرمائی ہے۔ان کتب کے اسماء درج ذیل ہیں۔
      “بعیت عہد نبوی میں””آپ کی منزل یہ ہے””شہنشاہ کونین کے دربار میں””دینی مدارس میں صنعت و حرفت کی تعلیم””لڑکیوں کا قتل عام””مجموعہ رسائل رحمانی””تصوف اور حضرت شاہ ولی اللہ””ممبئی ہائی کورٹ کا تازہ فیصلہ:عدالتی روایات کے پس منظر میں””حضرت سجاد :مفکر اسلام””سماجی انصاف عدلیہ اور عوام””مفت اور لازمی حصول تعلیم بچوں کا قانونی حق””مرکزی مدرسہ بورڈ اور اقلیتوں کی تعلیم””مسلم پرسنل لا بورڈ اور ہندوستانی مسلمان ””یادوں کا کارواں””حضرت مولانا علی میاں پر مقالات””مسلمانوں اور مدارس اسلامیہ پر وزارتی رپورٹ کے اثرات””وزارتی گروپ کی رپورٹ مدارس اور مسلمانوں کے خلاف””تاباں درخشاں جاوداں”(شخصیات پر مقالات کا مجموعہ)زیر طبع۔”اقلیتوں کی تعلیم اور حکومت ہند کو چند عملی مشورے””اقلیتی تعلیمی کمیشن ایک مختصر جائزہ” اور “صبح ایک زندہ حقیقت ہے، یقیناً ہوگی”وغیرہ۔
        متذکرہ بالا کتابوں کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔جبکہ ان میں بیشتر کتب ذاتی تجربات و مشاہدات کی بنیاد پر رقم کی گئی ہیں۔ان کتب میں جن نکات پر روشنی ڈالی گئی ہے وہ ملت اسلامیہ کے لئے انتہائی اہم نکات ہیں۔ان کا علم و ادراک ہر مسلمان کو ہونا ہی چاہیے۔تا کہ آنے والی ہر قسم کی مصیبتوں سے نمٹنے کی راہ ہموار ہو سکے۔
       زیر تبصرہ کتاب یوں تو کل 29 مضامین اور228 صفحات پر مشتمل ہے۔ بیشتر مضامین دینی شخصیات سے تعلق رکھتے ہیں۔لیکن فرداً فرداً تمام شخصیات کے متعلق جو شکیل استھانوی نے اپنی آرا قائم کی ہے ان پر اسی طرح ایک ایک کر کے تبصرہ کرنے کا معنی ہے کہ مزید ایک کتاب خلق کی جائے۔۔چونکہ یہ مضمون تبصراتی ہے اس لئے اسے زیادہ طول نہیں دیا جاسکتا ہے ۔ان گراں قدر علماء و دیگر شخصیات کے تعارفات میں جناب شکیل استھانوی نے کوئی کمی نہیں کی ہے اور نہ ہی تساہل سے کام لیا ہے۔ویسے اس ناچیز کے خیال سے کسی بھی اہل قلم کے لئے کسی بھی شخصیت کا مکمل جائزہ لینا یا احاطہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ایک عام انسان ہی کی زندگی کے اتنے گوشے ہوتے ہیں کہ ان گوشوں کا شمار ایک مشکل امر ہو جاتا ہے۔پھر ایک عالم دین ،مصلح قوم و ملت،مفکر و مدبر اور سب سے بڑھ کر مخلص ملت کی زندگی و کارہائے نمایاں کا مکمل احاطہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے۔چنانچہ ناچیز یہ کہنے کو مجبور ہے کہ شکیل استھانوی نے جو بھی رقم فرمایا ہے وہ خوب خوب ہے۔جہاں تک موصوف کی رسائی ہوئی ہے وہاں تک انہوں نے اپنا قلمی فریضہ نہایت ہی احسن اور ایماندارانہ و مخلصانہ طور پر ادا کیا ہے۔متذکرہ بالا تمام شخصیات کی حیات بابرکت کے ان اہم پہلئوں پر روشنی ڈالنے کی سعئ بلیغ فرمائی ہے جن کا تعلق اہل اسلام کی فلاح سے ہے۔اسی کے باہم متذکرہ بالا شخصیات نے جو اپنے طور پر قوم و ملت کی رہنمائی کی ہیں ان کو بہت ہی موثر انداز میں موصوف نے پیش کیا ہے۔ان تمام شخصیات میں کل تین ایسی شخصیات ہیں جن کی اس کم بیں کی نگاہوں نے نہ صرف زیارت کی ہے بلکہ آپ کے فیوض و برکات سے سرفراز بھی ہوا ہے۔ان جید شخصیات میں پہلا نام نامی حضرت مولانا سید فصیح احمد غفر لہ کا ہے ۔یادش بخیر اس وقت احقر کی عمر کوئی دس یا بارہ سال کی ہوگی ۔میں آپ کے دولتکدے پر اکثر جایا کرتا تھا اور آپ کے قریب ہی بیٹھتا تھا۔کبھی کبھی آپ کچھ نصیحت بھی فرمایا کرتے تھے۔دوسری شخصیت حضرت رونق استھانوی کی ہے آپ ایک فقیر منش عامل کامل تھے۔میں جب بھی بہار شریف جامعہ مسجد جاتا تھا تو وہاں آپ کی زیارت ہو جایا کرتی تھی آپ مدرسی عزیزیہ میں بحیثیت استاد اپنا فریضہ ادا کر چکے ہیں۔میں جس وقت کی بات کر رہا ہوں اس وقت آپ مدرسہ عزیزیہ سے سبکدوش ہو چکے تھے۔سننے میں آیا ہے کہ آپ کی خلق کردہ کتاب پاکستان کی کسی یونیورسٹی کے نصاب میں شامل رہی ہے۔میں آپ کے تعلق سے صرف اتنا کہ سکتا ہوں کہ اہل بہار نے ایک انمول ہیرے کی قدر نہیں کی ۔شاید ان میں ہیرے کی شناخت کی صلاحیت ہی نہیں تھی۔تیسری شخصیت جناب شمس الہدیٰ صاحب کی تھی۔مجھے عہد طفلی سے شاعری کا شوق رہا ہے۔جب کچھ غزلیں جمع ہو جاتی تھیں تو میں انہیں لےکر از خود پٹنہ روانہ ہو جاتا تھا۔اس وقت میرے سر پر چھپنے چھپانے کا ایک جنون سا تھا۔میں جب غزل لےکر پٹنہ جاتا تھا تو میرا پہلا پڑائو شمس الہدیٰ صاحب کا در ہی ہوتا تھا۔کچھ گفت و شنید کے بعد آپ میرے لئے ناشتے کا اہتمام بھی فرماتے تھے۔شمس الہدیٰ صاحب واقعی بہت اخلاق مند انسان تھے۔
     آخر میں مجھے اہل استھانواں سے ایک زبردست شکا یت ہے کہ آپ لوگوں نے مزید ایک اہل علم کی قدر نہیں کی۔حضرت مولانا محمد غفر لہ پر کسی نے بھی خامہ فرسائی کی زحمت گوارہ نہیں کی۔جبکہ مدرسہ محمدیہ میں آپ کی خدمات ناقابل فراموش رہی ہیں۔

ںےنام گیلانی
benamgilani@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published.