سہ ماہی کسوٹی جدید کا پانچواں ادبی اجلاس

شاعروں کی فی زمانہ وہ کثرت ہوگئ ہے کہ میراتھن مشاعرے بھی ہونے لگے ہیں۔ یعنی مسلسل 72 گھنٹوں کا مشاعرہ ۔یہ ریکارڈ توڑنے کے لئے کسی نے سو گھنٹوں کا تو کسی نے ایک سو بیس گھنٹوں کا مشاعرہ برپا کیا ۔ گویا ایک مقابلہ اور مسابقہ جاری ہے۔ ادھرشاعروں کی کوئ کمی نہیں۔ایک صف تھکی نہیں کہ دوسرے ہی لمحہ تازہ دم کمک میدان میں اترنے کو تیار۔سوشیل میڈیا کی برکت سے ہرگلی محلے میں دو چار بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعرچلتے پھرتے نظر آئیں گے۔ہم دعوی کر سکتے ہیں کہ per capita شاعری کے لحاظ سے اردو دیگر تمام زبانوں سے آگےہے۔ اس بلوۂ عام میں شعر اور ادب کا جو برا حال ہوا ہے اور ہوتا جارہا ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ ایسے ماحول میں سہ ماہی کسوٹی جدید کی جانب سے سنجیدہ ادبی موضوعات پر نشستوں کا اہتمام یوں ہے گویا صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم۔

علامہ اقبال پرتو جلسے ہوتے رہتے ہیں، مگر اردو شاعری کے چارستونوں میں سے ایک سمجھے جانے والے میرببر علی انیس کو جدید ادبی معاشرے نے تقریبا فراموش کردیا ہے۔ 4 جون کو شارجہ میں منعقدہ ادبی اجلاس میں “بازدید میر انیس”Revisit Mir Anees کے موضوع پر لکچرز کے سلسلے کا پہلا لکچر کسوٹی جدید کی ایونٹ ایڈیٹر مسکان سید ریاض نے دیا اور لکچر کے ختم پر حاضرین کے سوالات کے جواب دئے ۔

فوزان قداوائ نے اپنی تازہ غزل تنقید کے لئے پیش کی ۔ حاضرین نے غزل کے معنوی اور ساختی حسن و قبح پر سیر حاصل گفتگو کی۔

انتخاب مطالعہ کے ضمن میں کنور سلیم خاں اور موسی ملیح آبادی نے ن م راشد کی نظمیں پیش کیں۔ بعد ازاں شعری نشست ہوئ۔چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

مانی دھوراجی والا

خس و خاشاک کے مانند جلائے ہوئے لوگ

ہم تو مانی ہیں مقدر کے ستائے ہوئے لوگ

کیسے ہنستے ہیں ہنساتے ہیں یہ محفل محفل

شب ہجراں میں ترے غم کے رلائے ہوئے لوگ

ضیاء اعظمی

چمکتی ہیں تری آنکھیں تو ان کا ماجرا یوں ہے

گہر بن کر تری آنکھوں کی پہنائی میں رہتا ہوں

خاک پہنچے گی مرے جسم تلک صدیوں میں

میں نے جامے کئی پہنے ہیں کفن سے پہلے

فوزان قدوائ

یہ کیا کہ موم کی صورت پگھل گیا ہوں میں

ترے قریب کی ہر شئے میں ڈھل گیا ہوں میں

ترا وجود سمندر کی ریت جیسا ہے

خیال چھاؤں کا آتے ہی جل گیا یوں میں

مسکان سید ریاض

اسی طرح ہمیں ذکر خدا ضروری ہے

کہ جیسے جسم کو اچھی غذا ضروری ہے

ہے اچھی بات طبیعت میں انکسار بھی ہو

مگر مزاج میں تھوڑی انا ضروری ہے

فرید انور صدیقی

تمام عمر رہے دھیمی آنچ میں جلتے

بھڑک کے شعلے کی صورت بجھا نہیں کرتے

جو اپنے دل پہ گزرتی ہی ہم ہی جانتے ہیں

حديثِ دل سرِ محفل کہا نہیں کرتے

سید اعجاز شاہین

فصیل شہر شب مسمار کرنا

طلسم اہرمن بے کار کرنا

حذر از درہم و دینار کرنا

تلاش دولت بیدار کرنا

مرتب:

افضل خاں، مدیر سہ ماہی کسوٹی جدید۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.