!! ریشم زیدی کی غزلیں

غبار و سنگ سے، دیوار و در سے رشتہ ہے
نہ جانےکیسا تری رہ گزر سے رشتہ ہے

فلک سےرشتہ ہےشمس وقمرسےے رشتہ ہے
ہمارے شوق کا علم و ہنر سے رشتہ ہے

کوئی جو آۓ تو اۓ بھی کیوں مری جانب
کسی کا کون سا سوکھے شجر سے رشتہ ہے

میں اس سے ملنا بھی چاہوں اگر،ملوں کیسے
مرا تو شام سے اسکا سحر سے رشتہ ہے

میں سوکھنے نہیں دیتی کبھی دوآبے کو
کسی کے غم کا مری چشم تر سے رشتہ ہے

میں کیا کروں وہی میری نظر کو ہے منظور
ہر اک نگاہ کا جس کی نظر سے رشتہ ہے

دعائیں مانگتی رہتی ہوں رات دن ریشم
میں جانتی ہوں دعا کا اثر سے رشتہ ہے

——— 2 ————-

ہر سانس میں گھٹتے ہوئے جذبات کا دُکھ ہے
جو ہجر میں گزری ہے اسی رات کا دُکھ ہے

کشتی بھی میسر مجھے پتوار بھی حاصل!
طوفاں بھی اٹھے تو مجھے کس بات کا دُکھ ہے

زنجیر ہے پیروں میں مگر دُکھ نہیں اُسکا
ہاں شہر کے بگڑے ہوئے حالات کا دُکھ ہے

اِک سمت نگاہوں میں بہاروں کے تماشے
اور ایک طرف ارض و سماوات کا دُکھ ہے

بس اتنی سی اک بات پہ کیوں حشر ہے برپا
ہم اہلِ محبت کو فسادات کا دُکھ ہے

ریشم مجھے شکوہ نہیں ارباب کرم سے
جو دُکھ ہے مرے دل کو مری ذات کا دُکھ ہے

—— 3 ———

اندھیرا ہے نہ کوئ روشنی ہے
گھڑی کیا چشم تر کی آخری ہے

گزارش ہے ملک الموت سے یہ
سلا دے اب ضرورت نیند کی ہے

مرے انفاس مدھم پڑ رہے ہیں
گھٹن بھی رفتہ رفتہ بڑھ رہی ہے

سوال انکو ہے میری خامشی پر
جواب اس پر نئ اک خامشی ہے

ہوا کے ساتھ تاریکی اُلٹ دو
چراغوں تم کو بازی جتنی ہے

قدم صحرا کی جانب بڑھ رہے ہیں
طبیعت کچھ دنوں سے سر پھری ہے

قریب شہ رگ انسان ہے تو
تو پھر انسان کو کس کی کمی ہے

دعائیں ساتھ ہیں پیر و جواں کی
یقیناً یہ میری خوش قسمتی ہے

مرے نوحوں میں اتنی تلخیاں ہیں
ترے نغموں میں جتنی چاشنی ہے

———– 4 ———

حالات کے ماروں سے یوں موجِ بلا الجھے
جیسے کہ چراغوں سے رہ رہ کے ہوا الجھے

کچھ نظمِ چمن بدلے ہنگامہ بھی ہو برپا
گر شعلہ بیانوں سے بے بس کی صدا الجھے

خوشبو ہو فضاؤں میں خوش رنگ نظارے ہوں
دامانِ گلِ تر سے جب بادِ صبا الجھے

ہر شام اٹھاتی ہے سر تیرہ شبی اپنا
ہر رات اندھیرے سے شمعوں کی ضیا الجھے

یوں حرف نہ آجائے گلشن میں بہاروں پر
اب اور نہ پھولوں سے کانٹوں کی ردا الجھے۔

کیا ہوگا ذرا سوچو ریشم سرِ محفل جب
خود دار طبیعت سے گیسوئے انا الجھے

—————– 5 ——–

کوئی نہ لوٹ سکا آشکار ہے اب تک
متاعِ شام و سحر برقرار ہے اب تک

تمہیں میں سوچ کے اک پل کو مسکراتی ہوں
یہ وہ خوشی ہے جو گویا اُدھار ہے اب تک

مری وفاؤں پہ کچھ تیرے شک کا حاصل ہے
دلوں کے بیچ میں یہ جو درار ہے اب تک

جہاں حیات قضا کی تلاش رکھتی ہے
وہیں کہیں پہ ترا انتظار ہے اب تک

ستم کے بعد بھی حدِ نظر پہ کھل نہ سکا
فریب تیرا کرم میں شمار ہے اب تک

سفر کی دھوپ اسے کیوں ستائے گی ریشم
وہ جس کے سر پہ شجر سایہ دار ہے اب تک

———– 6 ————

جہاں پہ میں ہی نہیں تم وہاں سے لوٹ آؤ
زمیں کے ہو کے رہو آسماں سے لوٹ آؤ

یقین جانو وہاں کوئی ہم خیال نہیں
سو تم کو چاہیے بزمِ گماں سے لوٹ آؤ

ہمیں تمہاری تمنا ہے اور کچھ بھی نہیں
ہمیں قبول ہو تم اب جہاں سے لوٹ آؤ

قلم اٹھاو محبت کی روشنی لکھو
تم اہلِ علم ہو تیر و کماں سے لوٹ آؤ

ستم ہے جھوٹ ہے شر ہے فریب ہے جس میں
مرے عزیزو تم اُس داستاں سے لوٹ آؤ

اب اور کتنا ستم خود پہ ڈھاؤگی ریشم
بساؤ خود کو زرا لامکاں سے لوٹ آؤ

————— 7 ———

ہواہوں، دھوپ ہوں، بارش ہوں یا گھٹا ہوں میں
نگاہِ یار میں کوئی بتاۓ کیا ہوں میں

حدیثِ عشق ہوں اور پیکرِ وفا ہوں میں
وہ جانتا ہی نہیں ہے کہ آئینہ ہوں میں

مٹا نہ پائیگی دنیا اسے قیامت تک
لکھی جو خوں سے وہ روداد کربلا ہوں میں

تمہیں یہ کیسا تردّد ہے مجھ تک آنے میں
تمہارے واسطے منزل ہوں راستہ ہوں میں

ہوا کے دوش پہ کب سے سوار ہوں لیکن
زمانہ پھر بھی سمجھتا ہے خاکِ پا ہوں میں

رہ وفا میں سرکتی نہیں جو سر سے کبھی
وہ صبر و ضبط کی،ایثار کی ردا ہوں میں

خدا کا شکر ہے ریشم زمانے والوں کو
یہ رشک ہے کہ چراغوں کا سلسلہ ہوں می