“تاب دان” پر کچھ تاثرات

“تاب دان” پر کچھ تاثرات

کومل شہزادی،پی ایچ ڈی اسکالر

ہمارے ہاں بہت سے شعرا ہیں جو تاحیات بھی شاعری کرتے رہیں تو گمنام ہی رہتے ہیں جبکہ ایسے شعرا کم ہی ہیں جو کم وقت میں بڑا نام اپنے کلام سے بنا جاتے ہیں۔شاعر ایک حساس طرز کا حامل انسان ہوتا ہے جو معاشرے میں اردگرد واقعات کو الفاظ کا جامہ پہنا کر صفحہ قرطاس پر اتارتا ہے۔نوید مالک کا شمار بھی ان شعرا میں جو کم وقت میں اپنے کلام سے اپنا آپ منوایا۔شاعری ہمیشہ وہی اعلیٰ معیار کی ہوتی ہے جو بامقصد ہو بے مقصد نہ ہو جس میں اصلاحی پہلو ہوں وہ چاہے مخفی انداز میں ہوں یا ظاہری انداز میں لیکن اصلاح پر مبنی ہوں۔مصنف کی 

 اس سے قبل بھی کتب منظر عام پر آچکی ہیں۔زیر تبصرہ کتاب”تاب دان”٢٠٢٢ کو شائع ہوئی جو ١۴۴ صفحات پر مشتمل یہ شعری مجموعہ جس میں ایک نظم ،حمد ،نعت اور منقبت کے ساتھ٧٩ غزلیں شامل ہیں۔انکی غزلوں میں تخیلانہ انداز بہت عمدہ ہے۔شاعرانہ صلاحیتیں ایک جانب دوسری جانب تخیل جس سے باکمال اشعار وجود میں آتے ہیں۔

حرا کے طاق پہ تاروں نے سجدے ہوئے تھے

ہر اک چراغ کی تنویر سے بہت پہلے

اسی طرح زمانے سے شکوے کا انداز نہایت دلفریب ہے۔زمانے سے شکوہ بھی اس انداز سے کہ اس میں کوئی رنجش بھی محسوس نہیں ہونے دیتے۔انسان اس کائنات میں زندگی کے سفر میں رواں دواں ہے۔زندگی کی گردش میں ادھر اُدھر مڑ کراُسی کی طرف دیکھا جاتا ہے جو انفرادیت کا حامل ہو۔

ایسے بازار میں بنتا ہے بھلانا مجھ کو

کبھی دیکھے گا پلٹ کر یہ زمانہ مجھ کو

انسان اس دنیا میں کسی نہ کسی مقصد کے تحت آیا یعنی اس کے وجود کا کوئی تو مقصد مخفی ہے اور ہر کوئی اپنے اپنے فرائض سرانجام دینے میں مصروف ہے۔مستقل محنت آپ کو بلند مقام تک پہنچا سکتی ہے اس کے بغیر آپ کو بلند مقام نہیں ملتا ۔اس کے لیے کبھی بذات خود اپنا حوصلہ بننا اور اپنی ذات کو پروان چڑھاکر بلندی کی جانب بڑھنا ہے تو اسے کامیابی کی منزل ملتی ہے۔اگر آپ محنت ومشقت نہیں کرتے تو معمولی مقام بھی آپ کا منتظر نہیں ہوتا یعنی شاعر کا شعر جس میں وہ کہتا ہے کہ غار بھی آپ کو نہیں ملتی۔جب تک آپ اس کو تلاشنے میں محنت نہیں کریں گے ۔

آسانیوں سے ہم کو بلندی نہیں ملی

یعنی کسی پہاڑ میں اک غار بھی نہیں

اسی طرح زندگی کے متعلق ان کی غزل بہت عمدہ ہے سادہ انداز بیان ہے کہ زندگی خواہشات کا نام ہےجو ایک کے بعد ایک میں انسان اپنے آپ کو گھیرے رکھتا ہے۔اس کی امیدیں کبھی اختتام پذیر نہیں ہوتیں بلکہ حاصل کی تلاش زندگی کے آخر تک تگ ودو میں مصروف رہتا ہے۔شعر ملاحظہ کیجیے:

زندگی کیا ہے تمناوں کا کھارا پانی

ہر کوئی پی کے یہاں مانگے دوباراپانی

ہمارے ہاں ایسے بہت سے شعرا جو گزر چکے ہیں اور موجودہ شعرا کے ہاں ایسے موضوع پر تحریر کردہ کلام ملتا ہے جنہوں نے تہذیب وثقافت کے مٹتے ہوئے آثار کا نوحہ اپنے کلام کے ذریعے تذکرہ کیا ہے۔افتحار عارف،فرحت رضوی اور ظفر اقبال وغیرہ کے اس حوالے سے اہم نام ہیں جن کے ہاں مٹتی تہذیب کا نوحہ ہے۔

جنہوں نے قدیم تہذیب کے مٹتے آثار علامتی شاعری کے ذریعے اظہار کیا۔

بالکل اسی طرح ایسے عناصر تاب دان کی شاعری میں بھی ملتے ہیں۔

ملتا ہے روز مجھ کو ڈرامہ وہی قدیم 

لیکن نبھارہا ہوں میں کردار مختلف

ان کے شاعرانہ کلام میں ہمیں مذہبی رنگ بھی ملتا ہے جیسے خدا سے فریاداور اُس سے مخاطب ساتھ انکے کلام میں مدینہ اور قرآن سے عقیدت کا اظہار بھی ملتا ہے۔

میری آنکھوں کے مدینے میں وہی ہے اب تک

تھا جو قرآن سے پہلے ،ہےجو قرآن کے بعد

اے خدا اجالا ہو،جس سے روز محشر میں

لکھ دے ایسا اک سجدہ بندگی کے کھاتے میں

زندگی میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو دوسروں سے مخلصانہ جذبات اور آسانیاں بانٹنے میں اولین ہوتے ہیں لیکن ان کے خود کے ہاتھ خالی ہوتے ہیں۔ایسے افراد زیادہ کرخت مراحل سے گزرتے ہیں۔اسی کے برعکس اس دائرہ نما زندگی میں کچھ افراد کا کردارایسا ہوتا ہے جو دوسروں کو بے سہارا کرنے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔بے حسی کا معیار اس حد تک ہوتا ہے کہ غلط کرکے بھی اسے درست سمت میں موڑنے کا فن رکھتے ہیں۔ایسے ہی ایک خوبصورت شعرجو شاعر کا احساس کے جذبے سے لبریز کیفیات کا اظہار اس انداز میں کرتا ہے کہ میرے پاس نعمتوں کے باوجود کیوں کسی سے کھینچا تانی کروں۔

 کیوں اُسی شخص کی قسمت میں بیں کڑوے لمحے

جس نے خوابوں میں بھی بانٹی ہے مٹھائی بھائی

میں کسی اور کے پیروں سے زمیں کیوں کھینچوں

میرے مالک نے مجھے دی ہے چٹائی ،بھائی

علاوہ ازیں فرد کی تنہائی،مذہبی رنگ اور زندگی کے ہر پہلو کو سمونے کی کوشش انہوں نے اپنے کلام میں کی ہے۔انکی شاعری میں ایسے بہت سے پہلو ہیں جن میں بہت گیرائی پائی جاتی ہے۔بہت سے اشعاراشارہ وکنایہ انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔اب یہ قارئین پر ہے کہ شاعر نے اپنے تخیل کو گہرائی سےبیان کیا اُسے قاری کس انداز میں ادراک میں لاتا ہے۔

ویسے تو علامتیں اردو شاعری میں ایک عرصے سے مستعمل ہیں ۔ شعرا نے اس کا خوب استعمال کرکے شاعری کے کینوس کو وسعت بخشی ہے۔نوید ملک کا شمار انہیں میں ہوتا ہے۔انہوں نے جتنی بھی علامتیں یا استعارات اپنی شاعری کا حصہ بنائے ہیں اس سے کہیں بھی الجھاو یا ذہنی کوفت کا احساس نہیں ہوتا۔تاروں کا اٹھانا ،کچے مکانوں وغیرہ علامتوں کا استعمال انکے ہاں بھی ملتا ہے۔ِاسلوب سادہ ہے۔تشبیہات واستعارات کا استعمال انکے اس شعری مجموعے میں قاری کو نظر آئے گا۔تخیل باکمال ہے یہ میری ذاتی رائے ہے ۔ایک عمدہ شاعر عمدہ تخیل سے ہی وجود میں آتا ہے۔دوسروں کے کلام سے متاثر ہوکر لکھنا اور ہے لیکن تخیل آپ سے لکھواتا ہےجو اعلیٰ الفاظ میں ڈھال کر شاعر صفحہ قرطاس پر بکھیرتا ہے۔کمال فن میں جہاں موضوعاتی تنوع پایا جاتا ہے وہاں قرینہ اظہار بھی قابل داد ہے۔

یوں تو ہر سچا شاعر اپنے فن میں خود اپنی روح کی آواز کو پانے کی جستجو کرتا ہے۔لیکن یہ کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔قاری کے لیے فکر اور ابلاغ کے نئے درکھولتا ہےاور شاعروں کے لیے نئے تخلیقی امکانات کا راستہ بناتا ہے۔اکیسویں صدی کے اصناف سخن میں “تاب دان ” مجموعہ بھی امید ہے  اپنی حیثیت بنانے میں کامیاب ہوگا۔