!!!بےسلیقہ شاعر

By– رفیع رضا

نظم کہنے کا سلیقہ ھی نہیں ھے مُجھ کو

نہ تو رنگوں سے مروت کا خیال آتا ھے

نہ مہکتی ھوئی خوشبو کا اثر لیتا ھُوں

کوئی جھنکار سنائی ھی نہیں دیتی ھے

کوئی سرکار دکھائی ھی نہیں دیتی ھے

مُجھے لوگوں کی ضرورت کا خیال آتا ھے

جن کا کوئی نہیں ، مَیں اُن کی خبر لے سکتا

پھر مہکتی ھوئی خوشبو کا اثر لے سکتا

سسکیاں بھرتے ھوئے لوگ نظر آتے ھیں

پھر کوئی چیز دکھائی ھی نہیں دیتی ھے

اور کوئی بات سجھائی ھی نہیں دیتی ھے

خون کے گھونٹ مَیں چُپ چاپ ھی بھر لیتا ھُوں

مُجھ سے دیکھا نہیں جاتا ھے پرندوں کا قتال

مَیں درختوں کی بحالی میں اُلجھ جاتا ھُوں

لوگ انجیل بھی قرآن بھی لے آتے ھیں

بیچ میں کفر بھی ، ایمان بھی لے آتے ھیں

ان صحیفوں کی تلاوت سے بھی ڈر جاتا ھُوں

گویا آیات کی تلوار سے مَر جاتا ھُوں

بنجری کِیل مرے دل میں گڑی رھتی ھے

مُجھے پانی کے وسائل کی پڑی رھتی ھے

اپنے اطراف کے خدشوں میں گِھرا رھتا ھُوں

آنکھ ، فردا کے مناظر بھی بُلا لیتی ھے

کیفیت ، رنج کی آخر مُجھے آ لیتی ھے

اپنے اسلاف کی تاریخ پہ رو دیتا ھُوں

لفظ لکھتا ھُوں تو کاغذ کو بھگو دیتا ھُوں

کوئی مانے کہ نہ مانے، یہ یقیں ھے مُجھ کو

نظم کہنے کا سلیقہ ھی نہیں ھے مُجھ کو

رفیع رضا

Leave a Reply

Your email address will not be published.