آنے والے زمانوں کا شاعر- جون ایلیا

By- Munir Faraz

(منفرد اسلوب کے شاعر جون ایلیا سے کراچی میں ایک ملاقات کا احوال کافی عرصہ سے ذہن میں گردش کر رہا تھا جون کےیومِ پیدائش کا موقع اس کے اظہار کے لئے موزوں ترین ہے ، اگرچہ کہ یہ ملاقات ایک انٹرویو کی شکل میں طویل عرصہ قبل مقامی اخبارات میں چھپ چکا ہے لیکن یہ تحریر اُس ملاقات کے تاثرات کی شکل میں دوبارہ لکھی گئی ہے جو آج ان کی سالگرہ کے موقع پر انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے ، منیرفراز)

جب میری اُس سے پہلی ملاقات ہوئی تو وہ راتوں کا جاگا ہوا تھا۔

دو گھنٹے کی اس ملاقات میں اُس نے دس بار مجھ سے کہا کہ اسے روشنی سے ڈر لگتا ہے اور وہ گھر کی زیرِ زمین منزل کے ایک اندھیرے کونے میں دُبکا پڑا رہتا ہے، وہ مسلسل کئی کئی دن جاگتا رہتا ہے، اسے نیند نہیں آتی اور وہ مسلسل بے چینی کے عالم میں رہتا ہے۔ اُسے لوگوں سے ڈر لگتا ہے، اسے لگتا ہے کہ لوگ اُس کے جسم پر خراشیں ڈال دیں گے اُس کا چہرہ نوچ لیں گے۔ اُس دن بھی وہ راتوں کا جاگا ہوا تھا البتہ گھر کی بالائی منزل پر سولہ ہزار کتابوں کے درمیان بیٹھا تھا، جملہ لسانیات کے درجنوں لغات اُس کی ٹیبل پر بے ترتیب پڑے تھے جن پر جھک کر وہ آج بھی لفظوں کے معنی تلاش کر رہا تھا۔ وہ اِن فارسی ، عربی ، عبرانی، سنسکرت اور اردو لغات میں اپنی ذات کے معنی ڈھونڈ رہا تھا اور جب وہ اس میں ناکام ہوا تو اُس نے سرد آہ بھر کر اقرار کیا کہ وہ رائیگاں گیا۔

میرے جیسا غیر اہم آدمی جب اپنی صدی کے کسی اہم ترین اور عظیم الدماغ آدمی سے فون پر رابطہ کر کے کہے کہ وہ بہت دور سے آیا ہے اور ملنے کا خواہش مند ہے ، جس کے جواب میں صدی کا وہ اہم آدمی یہ کہہ دے کہ، چندا! ابھی آجاو، تو وہ اہم آدمی فی زمانہ کتنا فارغ و فضول ہوگا۔

کسی آئندہ صدی میں جا کر مکمل دریافت ہونے والے جون ایلیا سے یہ میری پہلی اور آخری ملاقات تھی ، وہ جملہ لسانیات کے لغات پر جھکا اپنے نام کے معنی تلاش کر رہا تھا۔ اُس کے کمرے میں سکوت تھا ، جگہ جگہ تازہ خون کے چھینٹے ، دیواروں سے لپٹے رتجگے، ٹوٹی پھوٹی الماریوں میں ٹھسے لوگوں کے رویے ، سگریٹ کی تیز بو اور لکڑی کے بوسیدہ فریموں میں خستہ حال دیواروں پر جابجا ٹنگی ، فاریہ کی تصویریں ، جنہیں وہ امروہے سے اپنے ساتھ لیکر آیا تھا۔ یہی اُس کا کل اثاثہ تھا۔

یہ کراچی کے علاقہ گارڈن سے ملحقہ اسماعیلی فرقہ کی بستی کھوجا جماعت خانہ کی ایک پرانی حویلی نما عمارت تھی جو اُسی کی طرح اندر باہر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی ، کمرہ کشادہ اور اُسی کی طرح بے ترتیب تھا غالبا یہیں بیٹھ کر اُس نے اپنا مشہور قطعہ لکھا ہو گا

مجھ سے ملنےکے لئے آؤ گی تو کھویا ہوا پاو گی مجھے

میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں

میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں

جون ایلیا اُس روز مجھے اُٹھ کر نہیں ملا ، بلکہ دل سے ملا اور مجھے اپنے اتنا قریب بٹھا لیا جیسے وہ کوئی انتہائی راز کی بات کرنے لگا ہو۔ یہ فرشی نشست تھی اور اُس نے اُس روز مجھ سے راز ہی کی باتں کیں۔ اُس کا کہنا تھا کہ اُس نے لوگوں سے متاثر ہونا چھوڑ دیا ہے کیونکہ لوگ وہ نہیں ہوتے جیسا نظر آتے ہیں ، اُس نے کہا حاصلِ کُن ہے یہ جہانِ خراب ، اُس نے کہا میں اپنے عہد سے بد دل نہیں ہوا ، مایوس ہوا ہوں۔ اُس نے کہا یہ رجسٹرڈ جو تم میری ٹیبل پر دیکھ رہے ہو ان میں آنے والے وقتوں کا نوحہ ہے کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں یہ عہد جو گزر رہا ہے وہ اپنی اگلی نسلوں کے لئے کیا چھوڑ کر جائے گا۔

مجھے بادی النظر میں اُس کی باتیں بلکل سمجھ نہیں آتی تھیں ، وہ خستہ حال اور کمزور دکھائی دیتا تھا اُس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئیں تھیں ۔ وہ نیا سگریٹ سلگاتا ، ایک بھرپور کش لیتا اور پھر بھول جاتا کہ اُس نے سگریٹ سلگایا ہے ، تا وقتیکہ کہ سگریٹ کی راکھ اُس کی انگلیوں کے درمیان نہ پہنچ جاتی ،وہ بات شروع کر کے درمیان میں چھوڑ دیتا تھا اور کوئی نئی بآت شروع کرتا، اُس کی نئی بات پچھلی چھوڑی ہوئی بات میں یوں ضم ہوتی جیسے خیام نے کوئی رباعی کہہ دی ہو ، جیسے میر کے دو مختلف مصرعے جوڑ کر نئے معنی پیدا کر لئے جائیں۔ وہ مجھے ساری گفتگو کے دوران چندا ہی کہتا رہا اُس کی اندر دھنسی ہوئی آنکھوں میں وحشت اور ویرانی دور سے ہی دکھائی دے جاتی تھی اور وہ شدید اضطرابی کیفیت میں تھا وہ گفتگو کے دوران اپنے سینے پر ہاتھ مارتا ، اُس کی ساری بے چینی یہیں تھی، یعنی سینے میں ، اُس کا دماغ روشن تھا۔ اُس نے دوران گفتگو میری فرمائش پر اپنا ایک ہی تازہ شعر یہ کہہ کر سنایا کہ چندا! دوسرے شعر کی فرمائش نہیں کرو گے۔ شعر تھا

جو اِن روزوں میرا غم ہے وہ یہ ہے

غموں سے بردباری جا رہی ہے

دو گھنٹے کی اِس ملاقات میں اُس نے جس انداز میں گفتگو کی اور زندگی کے جن پہلووں پر روشنی ڈالی بظاہر جون جیسے تباہ حال شخص سے اُس کی توقع کی ہی نہیں جا سکتی لیکن در حقیقت وہ زندگی کو زندگی سے سوا جانتا تھا۔ وہ پکا کیمونسٹ تھا لیکن کائنات کی تخلیق کو حاصلِ کُن مانتا تھا۔

جون ایلیا کی نثر میں نے انشائیوں کی شکل میں اولین سسپنس ڈائجسٹ میں پڑھی ، میرے لئے یہ طے کرنا مشکل تھا کہ وہ بڑا شاعر ہے یا بڑا نثر نگار ، نثر میں بھی اُس کا اسلوب جداگانہ تھا وہ ایسے لطیف پیرائے میں نثر لکھ گیا جس پر اچھی شاعری ہی کا گمان ہوتا ہے اور وہ کسی شعر کی طرح یاد رہ جاتی ہے۔ اُس ملاقات میں مَیں نے یہ بات جون سے پوچھی کہ اگر شاعری اور نثر میں کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو وہ کس کا انتخاب کریں گے ؟ جون ایلیا نے ٹیبل پر پڑے رجسٹرڈ، جن میں انہوں نے اپنا شعری کلام یکجا کر رکھا تھا ، میں سے ایک رجسٹر اُٹھا کر سینے سے لگاتے ہوئے کہا ، ان صفحوں میں مَیں نے خون تھوکا ہے ، اِن میں رتجگے ہیں ، اِن میں فاریہ کی سانسیں بسی ہیں اور اِن میں آنے والے وقتوں کا نوحہ رقم ہے اور یہی مجھے عزیز ہے۔ جون ایلیاء کی آنکھیں بھیگ گئیں۔

اُس روز جون ایلیا کی آنکھیں کئی بار بھیگیں ، اُس کے اندر کسی کربناک غم کا بسیرا تھا جو باوجود کوشش کے میں نہ جان سکا ، وہ غم کوئی بھی نہ جان سکا اُس نے کسی کو ہمراز بنایا ہی نہیں اُس کی نصف سے زائد شاعری اُس کرب سے بھری پڑی ہے ، اُس کرب کا جوہر کیا ہے اور وہ کہاں سے پھوٹتا ہے ، اس کا پتا نہیں چلتا۔ شعر پڑھیں تو درد کی ایک لہر اُٹھتی ہے لیکن اُس کے مرکز کا پتا نہیں چلتا۔

رنگ ہر رنگ میں ہے داد طلب

خون تھوکوں تو واہ واہ کیجئے

جو یہاں سے کہیں نہ جاتا تھا

وہ یہاں سے چلا گیا ہے کہیں

اب مری کوئی زندگی ہی نہیں

اب بھی تم میری زندگی ہو کیا

سوچتا ہوں کہ موت آنے تک

زندہ رہنے میں کیا قباحت ہے

تم کوئی بات کیوں نہیں کرتیں

پھر کوئی بات ہو گئی ہے کیا

تیری آنکھیں بھی کیا مصیبت ہیں

میں کوئی بات کرنے آیا تھا

اب نہیں کوئی بات خطرے کی

اب ہر کسی کو ہر کسی سے خطرہ ہے

اُن حسینوں پہ ترس آتا ہے

جن کو دھوکہ نہیں دیا میں نے

کیا کہا ! عشق جاودانی ہے

آخری بار مل رہی ہو کیا

جانئیے کس قدر بچے گا وہ

اس سے جب ہم گھٹائے جائیں گے

مجھ سے ملنے کو آپ آئے ہیں

بیٹھیئے میں بلا کے لاتا ہوں

کیا ستم ہے کہ اب تیری صورت

غور کرنے پہ یاد آتی ہے

جون ایلیا ایسے تیڑھے شعر کیوں کہتا ہے ؟ وہ شاعری کے دو اسکول آف تھاٹ ، یعنی غالب اور میر سے جداگانہ اسلوب میں اتنے بڑے اور دلکش شعر کیسے کہہ گیا ؟ اُس کی بحر مشکل کیوں ہوتی ہے؟ اُس کی ردیف الگ سے کیوں نظر آتی ہے اور اُس کے ہاں نئے قوافی کی فراوانی کہاں سے آئی ؟ یہ میں نے جون سے پوچھا۔ جون نے ایک لمحہ توقف کیا پھر بولے، شعر بڑھئی کی میز نہیں جس کا ڈیزائن پہلے سوچا گیا ہوتا ہے۔ شعر آپ پر اُترتا ہے ایک خالص جذبے کے ساتھ ، اسی لئے جس شعر میں جذبہ نہ وہ صاف نظر آتا ہے۔ وہ شعر زندہ رہ ہی نہیں سکتا۔ مجھ پر بھی شعر اسی حالت میں اُترتا ہے جس حالت میں یہ منیرفراز تک پہنچتا ہے۔ تم کویت سے مجھے ملنے آئے ہو ، کیوں؟ اس میں کوئی خالص جذبہ ہے ، تم سلطان کو یا رحیم کو یا اکبر کو کیوں نہیں ملتے ؟ یہی شعر میں ہوتا ہے اسی لئے شعر اگر منڈی بہاؤالدین میں کہا جائے تو وہ سفر کر کے ولایت پہنچتا ہے بحرہ عرب پہنچتا ہےاور وہاں کے کسی ریگستان سے کوئی کہتا ہے مجھے جون ایلیا سے ملنا چاہئے۔ جسم اور شعر میں سے اگر شعور اور جذبہ نکال دیا جائے تو جو باقی بچے گا اُسے عام زبان میں پتھر کہتے ہیں۔

اس ملاقات کے کچھ عرصہ بعد ہی مجھے ایک بار کویت کے ایک اخباری ادبی مباحثہ میں شعر میں عیبِ شُتر گُربہ پر ایک وضاحت کی ضرورت آن پڑی ، شعر فیض کا تھا جو سرِ دست یاد نہیں آ رہا، نسخہائے وفا سامنے ہو تو مل بھی سکتا ہے ، فون کر کے شعر جون کے آگے رکھا تو بولے، حضور ! عیب تو ہے۔ میں نے عرض کیا ، دیکھ لیں ، شعر فیض کا ہے۔ جون اور اعتماد سے بولے، فیض کونسا استاد شاعر تھے۔ بحث ہار جاؤ۔ یہ جون ایلیا کی فکر و اعتماد کا انداز تھا اسے یہ پوری طرح علم ہوتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔

میں نے جون ایلیا پر ہنسنے والے بھی دیکھے اور رونے والے بھی۔ ہنسنے والے تو کب کے جاچکے، اُن کا خیال تھا جون کوئی بھوکا ننگا شاعر تھا غیر تعلیم و تربیت یافتہ۔ انہوں نے جون کی ڈگریاں نہیں دیکھیں انہوں نے امروہے میں اُس کا بچپن اور جوانی نہیں دیکھی ، انہوں نے جون کو سچائی کی آنکھ سے نہیں دیکھا انہوں نے کتاب کبھی جذبے سے اُٹھائی ہی نہیں۔ اِس طبقہء فکر نے جون کا مذاق اُڑایا اُس کے ہواس پر ، جو اُس کے بس میں نہیں رہتے تھے ، جملے کسے۔ جون “شاید” کے پیش لفظ کے ابتدائیہ میں کیا لکھتے ہیں۔

” مجھے رائیگاں ہی جانا تھا جس بیٹے کو اُس کے انتہائی خیال پسند اور مثالیہ پرست باپ نے عملی زندگی گزارنےکا کوئی طریقہ نہ سکھایا ہو اور کہا ہو کہ علم ہی سب سے بڑی فضیلت ہے اورکتابیں ہی سب سے بڑی دولت ، تو وہ رائیگاں نہ جاتا تو اور کیا ہوتا “

ہمارے ہاں بائیس کروڑ کی آبادی میں فیض و ندیم کے کلام کی ایک ہزار کاپیاں چھپتی ہیں شاعر ہمارے ہاں بھوک کی علامت ہے، ایسا معاشرہ جون ہر ہنسے گا ، درحقیقت یہ رونے کا مقام ہے۔

جون ایلیا کو اس عہد میں رائیگاں جانا ہی چاہئے تھا وہ اِس عہد کا تھا ہی نہیں

ہائے وہ شخص جو تھا ہی نہیں

کیا قیامت مچا گیا مجھ میں

جون نے ٹھیک کہا، شخص تو تھا ہی نہیں اور وہ شخص جو اُس کے وجدان و گمان میں کہیں ہے ، وہ اگلے کسی زمانے میں آئے گا اور ثابت کرے گا کہ جون ایلیا اس عہد کا شاعر ہے۔

جون سے اِس پہلی اور آخری ملاقات کے بعد جب میں رخصت ہونے لگا تو وہ میز کا سہارا لے کر اُٹھا، وہ لاغر نہیں تھا ، راتوں کا جاگا ہوا تھا

اُس کے خیال کی نمود عہد بہ عہد جاوداں

بس یہ کہو کہ جون ہے ، یہ نہ کہو کہ مر گی

Leave a Reply

Your email address will not be published.