آزادی کے بعد بہار کے اردو ادبی رسائل

ڈاکٹر احسان عالم

پرنسپل الحراء پبلک اسکول، دربھنگہ

(عطا عابدی کی تحقیقی پیش کش)

سرزمین دربھنگہ علم وادب کا گہوار ہ رہا ہے۔ ہر دور میں معتبر شاعر، ادیب اور علماء ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے کارناموں سے اس سرزمین کو سیراب کیا ہے۔ دربھنگہ کی حیثیت کسی ادبی دبستان سے کم نہیں۔ ضلع دربھنگہ کے برہولیا گاؤں سے تعلق رکھنے والی ایک علمی و ادبی شخصیت کا نام عطا عابدی ہے۔ کئی طرح کی ملازمتوں سے گزرتے ہوئے وہ فی الحال انتظامی افسر (اردو)کی حیثیت سے، بہار قانون ساز کاؤنسل، پٹنہ میں اپنی خدمات 1997سے انجام دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر عطا عابدی کی کئی شعری اور نثری کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ وہ بنیادی طور پر شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ لیکن تنقید و تحقیق کے میدان میں بھی انہوں نے اپنا سکہ جمائے رکھا ہے۔ ”آزادی کے بعد بہار کے اردو ادبی رسائل“ 2022میں منظر عام پر آئی ہے۔ یہ تحقیقی نوعیت کی کتاب ہے۔ 320صفحات پر محیط اس کتاب میں بہار سے نکلنے والے 222رسائل و جرائد کا تذکرہ ہے۔ یہ کتاب اردو ڈائرکٹوریٹ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، حکومت بہار کے مالی تعاون سے شائع ہوئی ہے۔

پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی اب ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن اس کتاب پر اپنے تاثرات کا اظہار انہوں نے کیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ عطا عابدی ا س تحقیقی کام میں طویل عرصہ سے لگے ہوئے تھے۔ اس کتاب کے تعلق سے ہرگانوی لکھتے ہیں کہ عطا عابدی کی اس کتاب میں ذہنی، تہذیبی اور اخلاقی ادبی رشتے کی منطقی ترسیل ہے، جس کی کشادگی کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے جیسا منظر نامہ سمیٹا ہے ایسی آفاقیت دوسری کتاب میں نہیں ملتی۔آزادی کے بعد بہار کے حوالے سے صحافتی ذات، شخصیت، موجودگی اور فن سبھی کچھ اس کتاب میں ہے۔“

”قابل قدر کارنامہ“ کے عنوان سے ڈاکٹر سید احمد قادری اس کتاب کے حوالے سے کئی اہم نکتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بہار میں آزادی سے قبل اور آزادی کے بعد اردو رسائل کی شاندار اور سنہری تاریخ رہی ہے۔ تقسیم ہند نے بہار کے اردو صحافیوں، ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کے حساس وجود کو متزلزل کر دیا تھا۔ ہر طرف انتشار، خلفشار، بدامنی، بے بسی، مایوسی، بے پناہی، خوف و ہراس اور سراسیمگی کی فضا چھائی ہوئی تھی۔ بہار کی سرزمین سے اجڑنے والوں میں بڑے بڑے نواب، رؤسا، ادیب، شاعر، دانشور اور صحافی بھی تھے۔

ڈاکٹر محسن رضا رضوی نے ”صحافتی تحقیقی شعور کا آئینہ“کے عنوان سے اپنے تاثرات کا اظہار بہت ہی دلچسپ انداز میں کیا ہے۔ اس کتاب کے حوالے سے موصوف لکھتے ہیں:

”آزادی کے بعد بہار کے اردو و ادبی رسائل“ عطا عابدی کی تازہ ترین تحقیقی کتاب ہے، جسے تخلیقی تحقیق کے زمرے میں بھی رکھا جاسکتا ہے۔ عرق ریزی، جاں فشانی اور سلیقہ مندی سے انہوں نے اپنے تحقیقی مطالعے کو صفحہ قرطاس پر پیش کیا ہے۔ اس نوعیت کے کاموں سے واقفیت رکھنے والے حضرات جانتے ہیں کہ اس راہ میں کتنی مشکلیں پیش آتی ہیں اور سخت مقامات سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود تلاش و جستجو کو جنون شوق سے متصف رکھنے والے، تحقیقی امور کو سنجیدہ اور ذمہ دارانہ طور پر برتنے والے کے لئے ہر قدم راہیں ہموار اورکشادہ رہتی ہیں۔ عطا عابدی انہیں راہوں کے مسافر ہیں۔“(ص:27)

”یہ کتاب“ کے عنوان سے اپنے پیش لفظ میں ڈاکٹر عطا عابدی لکھتے ہیں کہ جہاں تک بہار میں اردو ادبی رسائل کی خدمات کا تعلق ہے، زیر نظر کتاب کے ذریعہ یہ کوشش کی گئی ہے کہ آزادی کے بعد سے اب تک غیر منقسم بہار کے زیادہ تر رسالوں کا جائزہ پیش ہوجائے۔ ایسے اہم رسائل جو عام طور پر کتب خانوں یا ذاتی دارالمطالعوں میں آج بھی مل جاتے ہیں، ان پر قدرے اختصار سے گفتگو کی گئی ہے، لیکن وہ رسائل جو قدرے کم معروف یا گمنام رہے ہیں اور تقریباً نایاب ہیں، ان کا تعارف وجائزہ قدرے تفصیل سے پیش کیا گیا ہے۔

”اردو ادبی رسائل: نقوش و نکات“ کے عنوان سے ایک مفصل تعارف مصنف نے پیش کیا ہے جو 35سے 99صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ ادبی رسائل کی اہمیت بیان کرتے ہوئے عطا عابدی لکھتے ہیں:

”ادبی رسائل اپنے عہد کے ادبی تناظر و تحریر کے حوالے سے نہ صرف تخلیقی شعور و سمت کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ سماج، ثقافت اور دیگر عوامل کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ وہ ادبی رسائل جو سہولت یافتہ شہروں یا علاقوں سے کافی فاصلے کی جگہوں سے یعنی دور افتادہ مقامات سے شائع ہوتے ہیں، ان کی ایک اہمیت یہ بھی ہے کہ وہاں کے ادیب و ادب نواز حضرات کے ذوق و شوق اور مقصد و جنون سے دیگر مقامات کے ادیب و ادب نواز حضرات نہ صرف واقف ہوتے ہیں بلکہ افہام و تفہیم کا براہ راست مواقع بھی پاتے ہیں۔ ادبی رسائل اپنے دامن میں زبان وادب اور ادیب و معاشرہ سے متعلق قیمتی حوالے رکھتے ہیں۔“(ص:37)

”آزادی کے بعد بہار کے ارد و ادبی رسائل: ایک تعارف ایک مطالعہ“ صفحہ 101سے 316تک محیط ہے۔

ادبی رسائل کی کڑی میں کتاب میں شامل پہلا تذکرہ دربھنگہ سے شائع ہوئے والے رسالہ ”نئی کرن“ کا ہے۔ رسالہ ”نئی کرن“ دربھنگا کا سال اشاعت بالترتیب 1949اور 1948بتایا ہے۔ لیکن اس کی اشاعت 1947میں ہوئی۔

ا س کے علاو ہ دربھنگہ سے شائع ہونے والے ادبی رسائل میں ماہنامہ ”صبح زندگی“، سہ ماہی ”شگوفہ“، ماہنامہ ”افق“، ”جذبات“، سہ ماہی ”رفتار“، ماہنامہ ”انتخاب“، سہ ماہی ”شباب“، ماہنامہ ”اشرف العرفان“، ”تحریر“، ”توازن“، ”کردار ڈائجسٹ“، ”ماہ نو“، مجلہ ”وادیئ نشاط“، پندرہ روزہ ”آگ کا دریا“، ”تحفہ ادب“، سہ ماہی ”آج کے نونہال“، ماہنامہ ”آواز نو“ لوام، ”ادب“، مجلہ ”صغری“، سہ ماہی ”جہان اردو“، سہ ماہی ”تمثیل نو“، ”شفیع مجلہ“، سہ ماہی ”دربھنگہ ٹائمز“، مجلہ ”دوروزہ قومی سیمینار“، سہ ماہی ”تحقیق“ وغیرہ اہم رسائل رہے ہیں۔

ضلع دربھنگہ کے قرب وجوار سے شائع ہونے والے رسائل ماہنامہ ”رضوان“ مظفرپور، دو ماہی ”سریر“ گیا / مظفرپور، ماہنامہ ”انجو“ مظفرپور، ”انعکاس“ مظفرپور، ماہنامہ ”العرفان“ سمستی پور، ”مسافر“ ململ، مدھوبنی، ”بزم فکر وادب“ مظفرپور، جریدہ ”نظام“ مظفرپور، سہ ماہی ”خوشبو“ سیتامڑھی، ماہنامہ ”کسوٹی جدید“ سمستی پور، سالانہ ”نشان منزل“ یکہتہ مدھوبنی، سہ ماہی ”اصناف ادب“ مظفرپور، ”اردو جریدہ“مظفرپور، سہ ماہی ”ساغر ادب“ مظفرپورہیں۔

بہار کے دیگر اضلاع مثلاً پٹنہ، رانچی، گیا، ویشالی، جمشیدپور، اورنگ آباد، پورنیہ، دھنباد، ڈالٹین گنج، کشن گنج، دانا پور، جھریا، آرہ، بہار شریف، صاحب گنج، بوکارو، مونگیر، کٹیہار، سیوان سہسرام، بھاگلپور، شیخ پورہ، بیگوسرائے وغیرہ سے بہت سے رسائل و جرائد شائع ہوتے رہے ہیں جن کا تذکرہ ڈاکٹر عطا عابدی نے اپنی اس کتاب میں کیا ہے۔

اس طرح ڈاکٹر عطا عابدی کی یہ کتاب”آزادی کے بعد بہار کے اردو ادبی رسائل“ ایک تحقیقی کتاب ہونے کے ساتھ عام قارئین کے لئے معلوماتی اور سود مندہے۔ اس کتاب کی پذیرائی یقینا اردو شائقین کے درمیان ہوگی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *