آدمی کی دُم

BY – بُش احمد۔ آسٹریلیا۔

اہم نوٹ: کرونا کا تُحفہ۔ پسند نہ آئے تو درگزر فرمائیے۔

میرے آفس فون کی گھنٹی بجی۔ مَیں نے فون اُٹھایا۔اسلام علیکم کے بعد اپنی کمپنی کا نام بتایا۔ دوسری طرف سے آواز آئی۔

’’ڈاکٹر صاحب! مَیں گیلانی بول رہا ہوں۔ ڈپٹی پروجیکٹ ڈائرکٹر سائنس لَیب۔ آپ کے سپلائی کردہ کمپیوٹر سامان کی ادائیگی کرنی ہے۔ مَیں ابھی ابھی بنک سے کیش رقم لے آیا ہوں۔ آپ رسید لے آئیں اور اپنی امانت لے جائیں‘‘

مَیں نے شکریہ ادا کیا اور فون واپس رکھ دیا۔ رمضان کا مبارک مہینہ تھا۔ دِل خوشی سے بلیوں اُچھل رہا تھا۔ آسٹریلیا سے واپس آ کر اسلام آباد میں اپنی کمپنی شروع کرنے کے چند مہینے بعد ایک جاپانی سائنسدان میرے آفس میں آیا تھا جسے میرا کام اور طریقہ پسند آیا تھا۔ اس کی مہربانی سے دو لاکھ چھیالیس ہزار روپے کایہ پہلا بڑا آرڈر ملا تھا جس میں ایَپل میکنتوش کمپیوٹر اور لیزر پرنٹر سپلائی کیا تھا۔ گیلانی سے مِلاقات اور رقم وصول کرنے کا پہلا موقع تھا۔ مَیں مستری پینڈو بندہ تکنیکی معاملات میں تو ٹھیک ٹھاک تھا لیکن پیسوں کے معاملے میں بالکل اناڑی۔ خوشی سے اپنے بنائے گئے ڈیٹا بیس پر کلائینٹ ادارےکے نام پر دو لاکھ چھیالیس ہزار روپے کی رسید پرنٹ کی اور اپنی۱۹۷۴ ماڈل کی تین دروازوں والی فورڈ اسٹیشن ویگن گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گیا۔ چک شہزاد پہنچ کر سائنس لَیب میں گیلانی کا کمرہ ڈھونڈا۔ آفس ڈیسک کے پیچھے کُرسی پر براجمان، چوڑے کالر والے کوٹ کے نیچے سفید قمیض کے اوپر چمکدار ٹائی کی گِرہ کَسّ کے لگائے، بریل کریم چپڑے ،پیچھے کی طرف کنگھی کئے، مانگ نکالے بال سجائے، پکی سانولی رنگت گیلانی اپنی کلارک گیبل سٹائل تراشیدہ باریک مُونچھوں پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔ کسی طوطے کی طرح اس کا سَر اور آنکھوں کے ڈیلے دائیں بائیں ایسے گھوم رہے تھے جیسےبندے گُمشدہ کرتے وقت محکمہ لات و منات کے انسپکٹر کے ڈیلے گھومتے ہیں۔

تعارف سلام دُعا کے بعد مجھے سامنے کی کُرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور رسید مانگی۔مَیں نے رسید حاضر کی۔ گیلانی نے غور سے پڑھی۔ تسلی ہو گئی تو رسید کو ایک طرف رکھ کر میز کا دراز کھولا۔ ایک ہزار، پانچ سو اور ایک سو کے کڑکڑاتے نئے نوٹوں کی دو گڈّیاں نکالیں۔ ایک موٹی گَڈی میرے حوالے کر دی۔ دوسری گڈی اُس نے اپنے سامنے رکھ لی۔ دھڑکتے دِل کے ساتھ مَیں نے رقم گِنی تو دو لاکھ چھتیس ہزار روپے تھے یعنی دس ہزار روپے کم تھے۔ مَیں نے حیرانی سے نظر اُٹھائی۔ کلارک گیبل کی ہی مانند بائیں طرف کی ابرو ذرا اُونچی کئے گیلانی میرے چہرے کے اُتار چڑھاؤ کا مطالعہ کر رہا تھا۔

’’دس ہزار روپے کم ہیں!‘‘ خُشک گھونٹ بھرتے میری آواز مُشکل سے ہی نکلی۔

’’وہ میرے!‘‘ ڈیسک پر اپنے سامنے کی گَڈّی کی طرف اشارہ کرتا، تراشیدہ باریک مُونچھوں تلے بھنچے ہوئے ہونٹوں سے گیلانی ایسے بولا جیسے فلم (Gone with the Wind) میں کلارک گیبل اپنی بے وفا بیوی کو کہہ رہا ہو، ’’فرینکلی مائی ڈئیر، آئی ڈونٹ گِو اے ڈَیم‘‘

(“Frankly my dear, I don’t give a damn.”)

گیلانی نے نیچے سے ایک بڑے سائز کا لیڈیز پَرس اُٹھا کر میز پر رکھ کر کھولا اور باقی نوٹوں کی گڈی اس میں ڈال کر بند کر کےواپس میز کے نیچے رکھ دیا۔

ایسی صورتِ حال سے زندگی میں میرا پہلی دفعہ پالا پڑا تھا۔ میرے ذہن میں سوالیہ کشمکش شروع ہو گئی۔ رسید میں دے چُکا تھا۔ رشوت دے کر کاروبار کرنے کے مَیں سخت خلاف تھا۔ لیکن یہاں معاملہ رشوت کا نہیں تھا۔ بس مجھے میرے حق سے کم پیسے دئیے گئے تھے۔ اب میَں اپنے آپ سے پُوچھ رہا تھا، ’’مُجھے کیا کرنا چاہیئے؟‘‘ گیلانی سے بحث لڑنے جھگڑنے کے لئے نہ جگہ مناسب تھی نہ وقت۔ نہ ہی مجھے ان اجنبی ناگہانی انوکھے مسائل سُلجھانے کا سلیقہ آتا تھا۔

میرے چہرے سے میری ناتجربہ کاری کا اندازہ لگا کر گھاگ کلارک گیبل گیلانی نے تسلی دی، ’’فکر نہ کریں ڈاکٹر صاحب۔ یہ کمی آئندہ آرڈرز میں پُوری ہو جائے گی۔ جاپان سے جائیکا (JICA) فنڈز آ ئے ہیں۔ لاکھوں ڈالر کے آرڈرز آئیں گے۔ بس ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیئے۔ آپ مجھے پسند آئے ہیں۔ آپ ٹیکنیکل آدمی ہیں۔ ہمارےتکنیکی مسئلے حل کرتے ہیں۔ ہمیں ٹریننگ بھی دیتے ہیں۔ مَیں نے تو آپ کوبہت کم چارج کیا ہے ورنہ فلاں کمپنی تو مُجھے پندرہ فیصد دیتی ہے ہر آرڈر پر لیکن وہ ہماری تکنیکی مدد نہیں کرتے۔ ڈبے بیچتے ہیں۔ کاروباری لوگ ہیں نا، کمیشن سے کام چلاتے ہیں۔‘‘

نوٹوں کی گڈی اپنے بریف کیس میں ڈالتے میں خاموشی سے اُٹھ کر گیلانی کے کمرے سے نکل آیا۔ واپسی کے راستے پر گاڑی ڈرائیو کرتے میرا میٹر گھوم رہا تھا، ’’مَیں نے رسید تو پُوری کاٹی ہے لیکن میرے بیگ میں دس ہزار روپے کم ہیں۔ کمپنی کے اکاؤنٹ کو کیسے بیلنس کرونگا؟‘‘

وطنِ عزیز میں نیا نیا کاروبار شروع کئے مجھے تکنیکی مسائل کے حل اور دو دونی چار کے علاوہ اور کچھ نہیں آتا تھا۔ بلیو ایریا میں پی آئی اے عمارت سے منسلک تہ خانے میں اپنے دفتر واپس پہنچا۔ وہاں قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبۂ نفسیات سے میرے ایک کلائنٹ اور دوست ڈاکٹر پرویز آئے ہوئے تھے ۔اُنہیں میکنتوش کمپیوٹر کے لئے ایک بیرونی ہارڈ ڈِسک کی ضرورت تھی۔ شومئی قسمت آسٹریلیا سے اپنے ساتھ لائی ہوئی ایک ذاتی استعمال کی ہارڈ ڈِسک میرے پاس تھی۔ وہ اُنہوں نے دس ہزار روپے میں خرید لی۔ مَیں نے گیلانی کی ادا کی گئی رقم کے ساتھ ان دس ہزار روپوں کو شامل کیا اور جا کر کمپنی کے بنک اکاؤنٹ میں جمع کروا دئیے کہ لو جی کمپنی اکاؤنٹ بیلنس ہو گیا۔ واپسی پر ہمزاد نے کھوپڑی کے پیچھے چپت لگائی، ’’نہیں بُدھو میاں! تُمہاری اپنی جیب سے دس ہزار روپے نکل گئے‘‘۔

اگلے سال جب اے اے اکاؤنٹنٹس میری کمپنی کی بیلنس شیٹ اور انکم ٹیکس داخلِ دفتر کریں گے۔ میں اُن سے اپنے حساب کے اس مسئلے کو ذکر کرونگا اور وہ ہنس کر فرمائیں گے، ’’ فکر کی کوئی بات نہیں تھی۔ ہم اِن دس ہزار روپوں کو ’’کنسلٹنٹ فیس‘‘ کے طور پر اکاؤنٹ میں دکھا دیتے!‘‘

اکاؤنٹنگ کے کھیل کی اس آگہی میں بُدھو میاں کو ابھی کچھ وقت لگے گا۔ اکاؤٹنٹ سے یہ بھی پتہ چلے گا کہ بنک کے نئے نوٹوں سے ادائیگی اس لئے کی جاتی ہے تاکہ اینٹی کرپشن والوں کے نشان زدہ نوٹوں سے پکڑے جانے کی نوبت نہ آئے۔ لیکن یہ سب بعد میں معلوم ہو گا۔

فی الحال اس حادثے نے ضرور میرے معصوم پینڈو مستری ذہن کو متأثر کیا ہو گا کیوں کہ اُس رات میں نے یہ عجیب و غریب سائنس فکشن فلم نما خواب دیکھا۔

مَیں ایک پہاڑی کی چوٹی پر کھڑا ہوں۔ میرے سامنے نیچے وادی میں عظیم الشان درختوں سے گھِرے ہوئے سرسبز علاقے میں میلوں میل تک بچھی ہوئی سفید رنگ کی ایک وسیع عمارت ہے۔ سین بدلتا ہے۔ مَیں عمارت کے قریب پہنچ گیا ہوں۔ عمارت کے اونچے دروازے پر ایک بورڈ لگا ہوا ہے جس پر کسی اجنبی زبان کے بریل نما اُبھرے ہوئے نقطہ دار حروف میں کچھ لکھا ہوا ہے۔ خواب کے عالم میں اس زبان کو میَں جانتا ہوں یا مجھے اس کا مفہوم سمجھ میں آ جاتا ہے ’’پروفیسر سَتّار کی تجربہ گاہ‘‘۔ پھر سین بدلتا ہے, اب میں عمارت کے اندر ہوں۔

ایک وسیع و عریض ہال میں اونچی سفید دیوار کی سکرین پر لائیو ویڈیو فِلم پروجیکشن چل رہی ہے۔ کسی آتش فشاں کے لاوے میں پکے ہوئے سیاہ شفاف اوبسِڈین شیشے جیسی بے کراں خلأ میں نیلے رنگ کا ایک گولہ لٹکا ہوا ہے اور آہستہ آہستہ بائیں سے دائیں گھوم رہا ہے۔ سکرین کے سامنے نیچے مختلف قسم کی کمپیوٹر نما مشینوں پر رنگا رنگ بلب جل بُجھ رہے ہیں۔ جا بجا مختلف سائز کی سکرینیں، سینکڑوں بٹن اور کنٹرول ہیں۔ سفید رنگ کے گاؤن پہنے انسان نما اینڈروئڈز (androids) اِدھر اُدھر آ جا رہے ہیں۔ کچھ اینڈروئڈز مشینوں پر کام کر رہے ہیں۔ لمبی چوڑی سپید گھنی داڑھی اور آئن سٹائن جیسے سَر پر بکھرے بے ترتیب سپید بالوں اور سفید ڈھیلے ڈھالے لبادے میں ایک بابا جی بڑی سکرین کے سامنے ایک مشین پر جُھکے ہوئے ہیں، بار بار سَر اُٹھا کر دیوار پر سکرین کو دیکھ رہے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے قریبی اینڈروئڈز کو کچھ کہتے جا رہے ہیں۔ بابا جی مشین کا ایک پہیہ گھماتے ہیں ۔سکرین پر نیلے گولے کا سائز بڑا ہوتا جاتا ہے جیسے کیمرہ زُوم کرتا قریب جا رہا ہو۔ ایک دم سے مُجھے احساس سا ہوتا ہے کہ یہ گولہ کُرّہ ارض ہے لیکن برِّ اعظموں کی شکل کروڑوں سال پہلے کی لگتی ہے جب سب برِّ اعظم آپس میں جُڑے ہوئے ہوتے تھے۔ سکرین پر زُوم کے سائز کے ساتھ ساتھ نمبر نظر آتے ہیں جن کا مطلب مجھے بس اتنا سمجھ میں آتا ہے کہ کیلنڈر نما وقت کا پیمانہ ہے۔

خواب کا سین بدلتا ہے۔ اب مَیں بابا جی کے پاس کھڑا ہوں۔ اُن کی بارُعب شخصیت ہے یا اُن کی قُربت کا احساس، مُجھ پر سخت ہیبت طاری ہے۔ میَں تھر تھر کانپ رہا ہوں۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ میری موجودگی سے واقف ہیں لیکن نظر انداز کر رہے ہیں۔ان کے اردگرد منڈلاتے اینڈروئڈز کے چوغوں کی پُشت پر اُسی اجنبی زبان میں مختلف لیبل لگے ہوئے ہیں جن میں فزکس کی چار بنیادی طاقتوں کے نام میری سمجھ میں آ جاتے ہیں۔ شاید جس کی پُشت پر لیبل لگا ہے اس کی ذمہ داری اس طاقت کی ہے۔ بابا جی کے آگے مشین پر ایک پہیے کے نیچے لیبل لگا ہے، ’’وقت‘‘۔ بابا جی ایک طرف پہیہ گھماتے ہیں تو بڑی سکرین پر نیلا گولہ تیزی سے اُلٹا گھومتا ہے جیسے ماضی کی طرف جا رہا ہو۔ دوسری طرف گھماتے ہیں تو گولہ مستقبل کی طرف تیزی سے گھومتا ہے اور براعظم پھٹ کر ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتے جاتے ہیں۔ مشین کے کنٹرول سے بابا جی گولے کے کسی بھی حصے کی تفصیل سامنے سکرین پر لے آتے ہیں یہاں تک کہ گولے کی زمین پر چلتی چیونٹی تک نظر آ تی ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی لگتا ہے جیسے آج کل کمپیوٹر پر گُوگل اَرتھ کُرۂ ارض پر دُنیا کے نشیب و فراز کا سیٹیلائٹ سے لیا گیا نقشہ دکھاتا ہے۔ مشین کے سامنے والے حصے پر ایک لیبل پر لکھا ہوا ہے، ’’لوحِ محفوظ‘‘۔

اچانک پیچھے کچھ شور و غوغا مچتا ہے۔ ہال کے اندر داخل ہو کر گہرے سُرخ رنگ کے گاؤن میں ایک اُونچا لمبا اینڈروئڈ د اونچی آواز میں کسی سے جھگڑا کر رہا ہے۔ تیز تیز قدم اُٹھاتے وہ ہمارے پاس پہنچتا ہے۔ مَیں حیران رہ جاتا ہوں جب اس کے پیچھے تکونے سِرے والی اُس کی لمبی دُم نظر آتی ہے جوغصے میں فرش پر پٹخی جا رہی ہے۔اس روبوٹ کے سَر پر دو سینگ نما اینٹنا یا ایریل ہیں۔ لمبے لمبے نوکیلے بھونپو نما کان ہیں۔ روشن لال آنکھیں جن سے چِنگاریاں نکلتی لگتی ہیں۔ اس کے کندھے پر لمبی دُم والا ایک بندر نما اینڈروئڈ بیٹھا ہے۔ دونوں سے تپش محسوس ہوتی ہے۔

سپید خوشرنگ گاؤن میں ایک اینڈروئڈ اس کے پیچھے دوڑتا آتا ہے۔

بابا جی اُس سے پُوچھتے ہیں، ’’جیگوڈئیل! کیا ہو گیا؟‘‘

جیَگوڈئیل بابا جی سے معافی مانگتا ہے، ’’پروفیسر، پروفیسر ستّار! مجھ سے غلطی ہو گئی۔ کل رات میں اپنی بیٹری چارج کرتے کرتے آف ہو گیا تھا۔ عابد نے مشین کا پاس ورڈ پڑھ لیا ۔ جب میں جاگا تو دیکھا کہ یہ آپ کی مشین پر بیٹھا کچھ مستقبل بینی کر رہا تھا۔ اسے روکا تو مجھ سے لڑ پڑا۔ اب میں نے پاس وَرڈ بدل دیا ہے۔‘‘

اپنے دانت نکالتے پالتو بندر کی لمبی دُم سہلاتے عابد اینڈروئڈ بابا جی سے مخاطب ہوتا ہے، ’’باس! مَیں نے مستقبل میں اتنا تو دیکھ لیا ہے کہ بندر کے ارتقأ کی بجائے آپ بن مانسوں میں سے ہی تین چار مختلف بن مانسوں کو شعور دے کر ان میں سے ایک آدم کی افزائش کریں گے۔ گویا کہ آپ آدم کو دُم نہیں دے رہے۔ مَیں کتنے عرصے سے کہہ رہا ہوں مجھے بغیر دُم کے آدم اچھا نہیں لگے گا۔ میرے ہنومان کو دیکھیں۔ اپنی دُم سے کتنا خوبصورت لگتا ہے۔ درختوں سے بھی دُم کے ساتھ لٹک سکتا ہے!‘‘

’’عابد! تمہیں معلوم تھا کہ تمہیں اُس کمپیوٹر کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں ہے۔ میَں نے تُمیں آگ کی انرجی سے بنایا ہے، نُور کی انرجی سے نہیں۔ تمہیں معلوم ہے تمہاری فریکوئنسی مختلف ہے۔ مشین خراب ہو جاتی تو؟‘‘ بابا جی جلال میں آ جاتے ہیں۔ ان کے غلافی پپوٹے اُٹھ کر کُھل جاتے ہیں۔ سفید شفاف آنکھوں میں بے شمار گھومتی کہکشائیں اور ستارے جگمگانے لگتے ہیں، لمبی چوڑی داڑھی لرزتی ہے۔

’’آئی ایم سوری باس!‘‘ عابدخِفت سے بابا جی کے سامنے سَر جھکاتا ہے۔ ’’گستاخی کی معذرت چاہتا ہوں۔ میں نے سکرین پر مستقبل میں دیکھا کہ نہ صرف آپ نے آدم کو دُم نہیں دی،مُجھ سمیت اپنے سب سٹاف کو آپ حُکم دے رہے ہیں کہ میرے آدم کو اپنا باس مان کر اس کے سامنے جُھک جاؤ، اس کا کہنا مانو۔ صرف میں نہیں مان رہا۔ آپ غصے میں آ جاتے ہیں میرا نام بدل دیتے ہیں اور مجھے تجربہ گاہ سے نکل جانے کا کہتے ہیں۔ آپ میرے خالق ہیں۔ آپ کو معلوم ہے ،میَں صرف ایک ذات یعنی آپ کو اپنا باس مانتا ہوں اور ستاروں کی راکھ اور مٹی سے بنے کسی آدم یا آدم زاد کو باس نہیں مانوں گا۔ یہ میرا اُصول ہے یا میرا ہارڈ ویئر سافٹ ویئر پروگرام جو آپ نے مجھ میں ڈالا ہے، کیوں ایسا ہے۔ میں نہیں جانتا ۔ لیکن مَیں اس کے خلاف نہیں جا سکتا۔ میری دُم ہے۔ سُرخ اینڈروئڈز ٹیم میں سب کی دُم ہے۔ دُم کے بہت سے فائدے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی آپ آدم کو دُم کیوں نہیں دے رہے؟ اُسے دُم دے دیتے تو میں شاید اپنے اصول کو قربان کر دیتا، شاید میرا پروگرام میں تبدیلی کی گنجائش ہوتی۔ آپ کا کہنا مان لیتا۔ اُس کو اپنا باس مان لیتا۔ کم از کم اس کی دُم کھینچنے میں مجھے کتنا مزا آتا! یا پھر آپ میرا پروگرام اَپ ڈیٹ کر دیں، بدل دیں تاکہ میں یہ مایوسی محسوس نہ کروں۔‘‘

بابا جی ذرا ٹھنڈے ہوتے فرماتے ہیں،’’تُمہیں بخوبی معلوم ہے میرا نام سَتّار ہے۔ اچھا ہوا جیگوڈئیل نے تُمہیں سارا مستقبل دیکھنے سے روک لیا۔ تُمہیں باقی دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔ تُم آدم کی دُم کھینچنا چاہتے ہو۔ اُسے تنگ کرنا چاہتے ہو۔ اس کے لئے اُس کی دُم ہونی ضروری نہیں۔ مجھے تو معلوم ہے۔ تُمہیں اُس کی دُم کھینچنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ دُم کے بغیر بھی میرا آدم اپنی مرضی سے کیسی کیسی حرکتیں کرے گا جن میں تمہارا عمل دخل نہیں ہو گا۔ جب مستقبل کی زمین پر میں آدم کی آمد کی تیاری کرونگا۔ جیسا کہ تُم نے دیکھ لیا ہے۔ ایک خاص قسم کے بن مانس کے ڈی این اے کو آہستہ آہستہ بدلوں گا۔ اُسے شعور دونگا۔ شروع میں وہ حیوانوں کی مانند کچا گوشت کھائے گا پھر میَں اُسے آگ کی آگہی دوں گا۔ آگ پر پکا کھانا کھائے گا تو خوراک سے اسے زیادہ غذائیت حاصل ہو گی۔ اسکے جسم کی نسبت اسکے سَر اور دماغ کا سائز بڑا ہوتا جائے گا۔ سیکھنے کی اس کی قدرتی صلاحیت بڑھتی جائے گی۔ اسے میرا بنایا ہوا فَرم ویئر (Firmware) سمجھ لو جو اس کے ڈی این اے میں ڈالوں گا۔

لیکن ہر پیدا ہونے والا آدم زاد بچہ نئی چیز سیکھنا صِفر سے ہی شروع کرے گا۔ اس کی قدرتی صلاحیت کو اہلیت اور قابلیت میں بدلنے کا پروگرام یعنی اس کا سافٹ ویئر پچھلی نسل اس میں ڈالے گی۔ لاکھوں سال گُزریں گے۔ وقت کے ساتھ ساتھ حالات بدلیں گے۔ وہ اہلیت وہ قابلیت بوسیدہ ہو جائے گی۔ یکے بعد دیگرے میں خاص انسانوں کو چُنتا جاؤں گا۔ اُن سے رابطہ کروں گا۔ اُن کا فَرم ویئر اَپ ڈیٹ کرونگا۔وہ باقی انسانوں کو سکھانے کی کوشش کریں گے۔ ایسے پہلے اَپ ڈیٹِڈ انسان کو آدم کہا جائے گا۔ آہستہ آہستہ ان چُنیدہ انسانوں سے میں انسان کو عقل و فہم سے نوازوں گا۔ اُسے چیزوں کا عِلم عطا کرونگا۔ وہ میرے اینڈروئڈز کی انرجی کو کنٹرول کر سکے گا۔ اپنے استعمال میں لا سکے گا۔ ایک طرف بنی نوع انسان کی تباہی کا سامان اور دوسری طرف بیماریوں کا علاج ایجاد کر سکے گا۔ حیوانوں سے بھی بڑھ کر وہ ظالم ہو گا لیکن میری طرح رحیم بھی۔ ان دو انتہاؤں کے درمیان کچھ بھی بننے کا یہ اختیار میں اُسے عطا کروں گا۔ مجھے معلوم ہے میرا بندہ کس قابل ہو سکتا ہے۔ اہل ہونا اور نااہل ہونا دونوں پروگرام آپشنز اس کے اندر ہوں گے۔ باقی اس کی مرضی پر چھوڑ دونگا۔

اپنے سب اینڈروئڈز کو کہوں گا، اسے اپنا باس مانیں تو وہ مجھ سے بحث کریں گے جیسے تُم اب کر رہے ہو۔ تمہاری طرح وہ بھی نہیں چاہتے کہ میرے سوا کوئی اور اُنہیں کنٹرول کرے۔ اُنہوں نے بھی مشین سے کچھ کچھ مستقبل میں دیکھ لیا ہے۔ جُونہی آدم کو میں نے شعور دیا تُم یہاں سے نکل جاؤ گے، اُس کی دُم ڈھونڈنا،اُس کا بازو مروڑنا ، اُس کے سَر پر سوار ہونا، اُس کے دماغ کا میٹر گھمانا شروع کر دو گے تاکہ وہ تباہی کی طرف مائل ہو جائے۔ لیکن تُم میں سے کوئی بھی وہ سب کچھ نہیں جانتا جو میں جانتا ہوں۔ یہ تجربہ میرا اپنا ہے۔ یہ مشین میرا ڈیزائن ہے۔ اس کی پروگرامنگ مَیں نے کی ہے۔ ایک دن آخر میں نے بھی ریٹائر ہونا ہے نا! کوئی تو پہلے زمین پر اور پھر کائنات میں میرا جانشین بنے گا، میرا خلیفہ بنے گا۔ نہیں بن سکے گا تو میں اس ساری کائنات کو لپیٹ دونگا اور ایک اور بنا لوں گا جب تک میرا تجربہ کامیاب نہیں ہو جاتا۔ بس یہ یاد رکھو۔ میرا نام سَتّار ہے۔ تُم سب اس کا مطلب سمجھتے ہو۔ میَں نے اپنے بندے کی شرم رکھنی ہے!‘‘

میرا خواب یہاں تک پہنچا تھا کہ بیگم نے میرے چہرے پر چھنیٹے مار کر جگا دیا۔ سحری کھانے کا وقت ہو گیا تھا۔

دوسرے دِن دفتر میں دو صاحب مجھے ملنے آئے۔ کندھے پر دسترخوان جیسا رُومال رکھے، پاؤں میں نفیس پشاوری چپل پہلے،ٹخنوں سے اُونچی بڑے گھیر کی شلوار، لمبی ڈھیلی ڈھالی قمیض میں بھاری پُھولی جیب لٹکائے, ایک با ریش پچاس پچپن عُمر کا بندہ۔ دوسرا سمارٹ پتلون قمیض میں فوجی قد و قامت چالیس پنتالیس سالہ نوجوان۔ معلوم ہوا کہ باریش حضرت صوبہ سرحد کی پارلیمان میں سینیٹر فلاں خان ہیں اور لاہور میں اب اُسی فوجی الیکٹرونکس کمپنی کے مالک جس میں تیرہ سال پہلے میَں ڈیزائن اینڈ ڈویلپمنٹ مینجر ہوتا تھا۔ فوجی بندہ ایک ریٹائرڈ میجر ہے جو اس کمپنی میں فوجی رابطہ افسر ہے اور فیکٹری کےفوجی سامان کی کوالٹی کنٹرول کا ذمہ دار بھی۔ میرے دفتر میں ان احباب کے آنے کا مقصد واضح ہوا۔ جس فوجی الیکٹرونک ڈبے کا میَں پروجیکٹ مینجر ہوتا تھا اور راتوں کو دو دو بجے تک فوجی جیپوں میں لاہور کی سڑکوں پر پِھر پھرا کر اس ڈبے کا فیلڈ ٹیَسٹ کیا تھا۔ اس کا فنکشن کنفرم کیا تھا۔ وطنِ عزیز سے میرے چلے جانے کے بعد کی پروڈکشن میں وہ سب کے سب ڈبے فوج کو سپلائی ہو چکے ہیں لیکن پروڈکشن یا کوالٹی کنٹرول میں کسی نامعلوم خرابی کی وجہ سے حسبِ توقع کام نہیں کرتے۔ مسئلے کا حل تلاش کرتے اُنہیں ایرفورس میں میرے کسی مہربان کلائینٹ سے پتہ چلا کہ میں وطنِ عزیز واپس آ گیا ہوں۔ میری تکنیکی مدد کی ضرورت ہے، وغیرہ وغیرہ۔

تکنیکی مسئلہ تو میری سمجھ میں آ گیا لیکن عجیب بات یہ لگی کہ سب کچھ بتاتے ہوئے میجر صاحب مجھے بار بار کچھ اور بھی جتانے کی کوشش کرتے رہے، ’’ڈاکٹر صاحب، یہ فلاں خان صاحب سینیٹر ہیں!‘‘ جیسے بادشاہ سلامت کا دربان اپنا نیزہ جُھکا کر اعلان کر رہا ہو، ’’با ادب با ملاحظہ ہوشیار۔ ضِلِّ الہی شہنشاہِ مُعظم عالم پناہ حضور پُر نُور فیض گنجُور، مجبور قوم کے بادشاہ تشریف لائے ہیں‘‘

یعنی مُجھ سے کسی قسم کے پروٹوکول کی توقع رکھ رہے تھے کہ میَں سینیٹر صاحب کے سامنے ناک رگڑوں گا، کچھ چائے وائے پیش کروں گا۔ یہ عجیب و غریب بات میری پینڈو مستری سمجھ سے باہر تھی۔ اُنہیں میری ضرورت تھی۔ میری مدد لینے میرے آفس میں آئے تھے اور مُجھی سے پروٹوکول کی توقع بھی رکھ رہے تھے۔ مسئلہ اُن کا تھا۔ حل مُجھ سے چاہیئے تھا، وہ بھی مُفت میں اور مسکینی عاجزی کی توقع بھی مُجھ سے۔ واہ میرے خدا! تُو نے کیسے کیسے متکبرآدم پیدا کئے ہیں! میرا مقام نہیں تھا انکار کرنے کا کہ خدمت مُلک و قوم کی تھی، کسی آدم کی نہیں۔ میں نے ہامی بھر دی۔

کچھ دن بعد ایک شام کی بات ہے۔ اسلام آباد کی ایک مشہور مہنگی مارکیٹ میں گیلانی کو اپنی چمکتی کار کے اگلے بائیں دروازے سے اُتر کر ایک ہاتھ سے اپنی کلارک گیبل مُونچھوں پر مساج کرتے، دوسرے ہاتھ سے پچھلا دروازہ کھولتے دیکھا۔ گاڑی سے پھنس کے نکلی، گیلانی کی لحیم شحیم بیگم۔ فُل میک اپ کئے، بنارسی ریشمی ساڑھی میں نیم عُریاں تھل تھل کرتا جسم۔ چمکدار رنگین نگینوں سے مُرصع بھاری نیکلس اور کلائی سے کُہنی تک موٹے موٹے سُنہری کڑوں اور چُوڑیوں سے لدی۔ اپنی ہائی ہیل سینڈل کھڑکاتی، سڑک پر مشکل سے اپنا توازن برقرار رکھتی بیگم مہنگے فیشن ایبل ڈیزائنر کپڑوں کے شو روم کی طرف روانہ ہو گئی۔ ڈرائیور کو کار پارکنگ کرنے کی ہدایت کے بعد کوٹ پتلون میں ملبوس گیلانی اپنی بیگم کا بھاری پرس اُٹھائے بیگم کے پیچھے پیچھے فرمانبرداری سے چلتا گیا۔ یہ وہی پرس تھا جس میں دوسروں کا حق مار کر اور رشوت کے نوٹوں کی گَڈیاں وہ دفتر میں بیٹھ کر ڈالتا تھا۔

مجھے ایک دم سے اپنا خواب یاد آیا۔ اگر پروفیسر سَتّار آدمی کی شرم نہ رکھتا اور عابد کی بات مان لیتا تو کیا ہوتا۔ گیلانی کی بیگم کی ساری کی تہوں کے پیچھے ایک سوراخ سے نکل کر اس کی دُم کسی شِکم پُر بِلّی کی کھڑی پُھولی دَم کی مانند لہرا رہی ہوتی۔ اُس کے پیچھے فرمانبرداری سے چلتے گیلانی کے کوٹ پتلون کے پیچھے سے نکل کر اُس کی دُم کسی وفادار کُتے کی دُم کی مانند دائیں بائیں ہِل رہی ہوتی۔ سینیٹر خان کی کھڑی رُعب دار دُم کے آگے پیچھے میجر کی پروٹوکول دُم ٹانگوں میں دبی ہوتی۔ شادی یا نوکری کے لئے انٹرویو میں ہماری خوداعتمادی کا کیا بنتا۔ شادی کے دِن دُلہا کا حال تو خیر ایک طرف، پھوکے ولیمے والے دِن ہماری پھنے خانی کا مزا کِرکِرا ہو جاتا۔ ہم سب کو معلوم ہو جاتا کون کس کا وفادار ہے اور کون کس سے خوفزدہ۔ ارد گرد مجمع بنائے کھڑے اپنی اپنی دُمیں ہِلاتے ہم سب تُھو تُھو کر رہے ہوتے یا اپنی ٹانگوں میں دباتے چیاؤں چیاؤں کر رہے ہوتے یا درختوں کی شاخوں کے گرد اپنی دُمیں لپیٹے، اُلٹے لٹکے ہنومان کی مانند دانت نکالتے چَڑ چَڑ کر رہے ہوتے۔ پروفیسر سَتّار تھینک یُو سو ویَری مَچ!

Leave a Reply

Your email address will not be published.